Book Name:Shariat-o-Tareeqat

وَسَلَّمکی بارگاہ میں  حاضری کا شرف اور صحبت و زیارت نصیب ہوئی ہے ۔  جن کی کافی تفصیل طبقات الاولیاء میں  مذکور ہے ان میں  شیخ ابراہیم فناوی، شیخ ابو مدین مغربی، سیدی ابو السعود بن ابو العشائر، سیدی ابراہیم وسوقی، شیخ ابو الحسن شاذلی، شیخ ابو العباس مریسی، سیدی ابراہیم بتولی، علامہ جلال الدین سیوطی، شیخ احمد زوادی بچری وغیرھم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ۔

امام جلال الدین سیوطی عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ کا ایک خط آپ کے ایک رفیق شیخ عبدالقادر شاذلی کے پاس حضرت سیدی علی خواص عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ نے دیکھا ۔  جو اس شخص کے جواب میں  لکھا تھا جس نے بادشاہ کے پاس آپ کی سفارش طلب کرنے کو لکھا تھا ۔  اس خط کے جواب میں  علامہ سیوطی عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ نے تحریر فرمایا تھا ۔  ’’ میرے بھائی میں  اس وقت تک ۷۵ مرتبہ بیداری کی حالت میں  حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں  بالمشافہ حاضر ہوچکا ہوں  اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ بادشاہ و امراء کے پاس جانے سے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممجھ سے ملاقات ترک کردیں  گے تو ضرور قلعہ میں  جاتااور بادشاہ سے تمہاری سفارش کرتا ۔ میں  ایک خادم حدیث ہوں  جن حدیثوں  کو محدثین نے اپنے طریقوں  سے ضعیف کہا ہے ان کی تصحیح کے لئے حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی طرف محتاج ہوں  اور بلاشبہ اس کا نفع تمہارے نفع پر ترجیح رکھتا ہے ۔  مذکورہ واقعہ کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ حضرت محمد بن ترین مداحِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے متعلق مشہور ہے کہ انہیں  جاگتے میں  حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی آمنے سامنے زیارت ہوتی تھی ۔  جب وہ صبح کے وقت روضہ اطہر پر حاضر ہوئے تو حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ان سے اپنی قبر اطہر میں  سے کلام فرمایا ۔  یہ بزرگ اپنے اسی مقام پر فائز رہے حتی کہ ایک شخص نے ان سے درخواست کی کہ شہر کے حاکم کے پاس اس کی سفارش کریں  آپ عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ حاکم کے پاس پہنچے اور سفارش کی اس نے آپ عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ کو اپنی مسند پر بٹھایا ۔  تب سے آپ عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ کی زیارت کا سلسلہ ختم ہوگیا پھر یہ ہمیشہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں  زیارت کی تمنا پیش کرتے رہے ۔  مگر زیارت نہ ہوئی ایک مرتبہ ایک شعر عرض کیا تو دور سے زیارت ہوئی حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا ۔  ظالموں  کی مسند پر بیٹھنے کے ساتھ میری زیارت چاہتا ہے اس کا کوئی راستہ نہیں ۔  حضرت علی خواص فرماتے ہیں  کہ پھر ہمیں  ان بزر گ کے متعلق خبر نہ ملی کہ ان کو سرکارصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی زیارت ہوئی یا نہیں  حتی کہ ان کا وصال ہوگیا ۔ ‘‘ (میزان الشریعۃ الکبریٰ ص ۴۸) امام شعرانی عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ فرماتے ہیں ۔  ’’ حضرت امام ابو الحسن شاذلی اور ان کے شاگرد حضرت شیخ ابو العباس مرلیسی علیھما الرحمۃ فرماتے تھے کہ اگر ہم لمحہ بھر کے لئے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی زیارت سے محروم ہوجائیں  تو اپنے آپ کو مسلمانوں  میں  شمار نہ کریں ۔ ‘‘ (میزان الشریعۃ ص ۴۸) یہ ارشادات ذکر فرما کر امام شعرانی نے فرمایا ’’ جب یہ مرتبہ ہر ولی کی بابت ہے تو ائمہ مجہتدین تو اس مقام کے زیادہ مستحق ہیں ‘‘ پھر ارشاد فرماتے ہیں ۔  ’’ ائمہ فقہاء کرام اور صوفیاء حضرات سب اپنے پیروکاروں  کی شفاعت کریں  گے اور روح نکلتے وقت ان کی نگہبانی کریں  گے اور یونہی منکر نکیر کے سوا لات کے وقت اور حشر و نشر اور حساب اور میزان عمل اور پل صراط سے گزرنے کے وقت خیال رکھیں  گے اور حشر کے ان مقامات میں  سے کسی مقام میں  اپنے پیروکاروں  سے غافل نہ ہوں  گے ۔  اس کے بعد ارشاد فرماتے ہیں ۔  ’’ جب مشائخ صوفیاء دنیا و آخرت میں  تمام مشکلات اور تکلیفوں  میں  اپنے مریدوں  اور پیروکاروں  کی نگرانی فرماتے ہیں ۔  تو ائمہ دین کیسے نہ نگرانی کریں  گے ۔  جو تمام جہاں  کی میخیں  اور دین کے ستون اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی امت پر امین ہیں  بلاشبہ وہ ضرور ضرور مدد فرماتے ہیں  شیخ الاسلام ناصر الدین لقانی کو وصال کے بعد بعض نیک لوگوں  نے خواب میں  دیکھا ان سے پوچھا اﷲ  تبارک و تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا جواب دیا ۔  قبر میں  جب منکر نکیر نے سوالات کے لئے مجھے بٹھایا تو حضرت امام مالک تشریف لائے اور کہا کیا ایسے شخص سے بھی اﷲ  ورسول پر اسکے ایمان کے بارے میں  سوال کیا جائے گا ۔  اس کے پاس سے ہٹ جاؤ چنانچہ منکر نکیر ہٹ گئے ۔ ‘‘ (میزان الشریعۃ ص ۸۷) اس کے بعد امام شعرانی فرماتے ہیں  ’’ ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ صحابہ کرام و تابعین اور ائمہ مجتہدین کا مقام دیگر تمام اولیاء کرام کے مقام سے زیادہ بڑا وعظیم ہے ۔ ‘‘(میزان الشریعۃ الکبریٰ ص ۱۷۲ مطبوعہ مصر)

ان اقوال کے علاوہ بھی بزرگوں  کے اقوال کی نہریں  موجیں  مار رہی ہیں  اور ان کے فیضوں  کا سمندر لہریں  لے رہا ہے مگر انصاف والے کے



Total Pages: 23

Go To