Book Name:Shariat-o-Tareeqat

کر معرفت الٰہی کے بارے میں  کلام کرنا شروع کیا لوگ سن کر آپے سے باہر ہوگئے آپ نے فرمایا آنکھیں  بند کرلو اور بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم پڑھ کر چلو لوگوں  نے ایسا ہی کیا جس نے جلدی آنکھ کھولی اس کا جوتا پانی سے تر ہوگیا اور جس نے دیر سے آنکھ کھولی اس کا جوتا بھی خشک رہا اور سب نے اپنے آپ کو دریا کے پار پایا ۔  خواجہ مودود کے  قاصدوں  نے جب یہ معاملہ دیکھا فوراً جا کر صاحبزادہ صاحب کو مطلع کیا کسی کو یقین نہ آیا صاحبزادہ دو ہزار مسلح مریدوں  کے ساتھ سامنے آگئے لیکن جیسے ہی شیخ الاسلام کی نظر سے نظر ٹکرائی فورا بے اختیار ہو کہ پیدل آئے اور حضرت شیخ الاسلام کے پاؤں  چومے حضرت نے ان کی پیٹھ پر ہاتھ مارا اور فرمایا ولایت کا کام دیکھا تم نہیں  جانتے کہ اﷲ  والوں  کی ولایت فوج اور اسلحے سے نہیں  ہوتی جاؤ سوار ہو جاؤ ابھی تم بچے ہو تمہیں  نہیں  معلوم کہ تم کیا کرتے ہو پھر جب بستی میں  آئے تو حضرت احمد جامی عَلَيْهِ الرَّحْمٰۃ ایک محلے میں  ٹھہرے اور صاحبزادہ خواجہ مودود دوسرے محلے میں  دوسرے دن صاحبزادے کے مریدوں  نے کہاہم تو احمد جامی کو ملک سے نکالنے آئے تھے اور آج ان کے ساتھ ایک ہی بستی میں  ٹھہرے ہوئے ہیں  کوئی طریقہ کار اختیار کرنا چاہئے حضرت خواجہ مودود نے کہا میری درست رائے یہ ہے کہ صبح ان کی خدمت میں  حاضر ہو کر واپسی کی اجازت لے لیں ۔  پس ان کا کام ہماری طاقت میں  نہیں ۔  مریدوں  نے کہا ۔  درست رائے یہ ہے کہ ایک جاسوس مقرر کرلیں  جب ان کے دوپہر کے آرام کا وقت آئے اور لوگ ان کے پاس سے چلے جائیں  اور وہ تنہا ہوں  اس وقت ہماری ایک جماعت کے لوگ آپ کے ساتھ ان کے پاس جائیں  اور قوالی شروع کریں  اور وجد کی صورت بنائیں  اسی حالت میں  ان پر حملہ کرکے کام تمام کردیں ۔  حضرت خواجہ نے فرمایا یہ ٹھیک نہیں  وہ ولی ہیں  صاحب کرامات ہیں  مگر جب دوپہر کو حضرت شیخ الاسلام کے آرام کا وقت ہوا خادم نے چاہا کہ بچھونا بچھائے فرمایا تھوڑی دیر ٹھہرو کچھ کام ہے ۔  اچانک کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا خادم نے دروازہ کھولا تو حضرت خواجہ مودود ایک بہت بڑے گروہ کے ساتھ کھڑے ہیں  ۔ سلام کے بعد قوالی شروع ہوئی  ساتھیوں  نے نعرے لگانا شروع کئے انہوں  نے چاہا کہ اپنا فاسد ارادہ پورا کریں  کہ اچانک حضرت شیخ الاسلام نے سر مبارک اٹھا کر فرمایا اے سہل تو کہاں  ہے ارے اے سہل تو کہاں  ہے ۔  سہل نام کے یہ بزرگ شہر سرخسی کے رہنے والے تھے اور ہمیشہ حضرت شیخ الاسلام کے ساتھ رہتے تھے حضرت کے آواز دیتے ہی فوراً حاضر ہوئے اور ان فسادیوں  پر ایک نعرہ مارا سب اپنی جوتیاں  پگڑیاں  چھوڑ کر بھاگ گئے ۔  صرف خواجہ مودود چشتی باقی رہ گئے ۔  نہایت شرمندگی سے کھڑے ہوئے اور ننگے سر ہو کر معافی مانگی اور عرض کی حضور آپ جانتے ہیں  کہ فساد میں  میری مرضی نہ تھی فرمایا تم سچ کہتے ہو مگر تم ساتھ کیوں  آئے ۔  عرض کی میں  نے برا کیا مجھے معاف فرمادیں ۔  فرمایا میں  نے معاف کیا اب ان لوگوں  کو بلاؤ اور دوخدمتگار مقرر کرو اور تین دن ٹھہرو حضرت خواجہ مودود نے ایسا ہی کیا اس کے بعد خواجہ مودود نے حاضر ہو کر عرض کی جو آپ کا حکم تھا وہ میں  نے پورا کردیا اب مزید کیا فرمان ہے فرمایا مصلّٰی ایک طرف رکھو اور پہلے جاکر علم پڑھو کہ بے علم زاہد شیطان کا مسخرہ ہے ۔ ‘‘ خواجہ نے عرض کی میں  نے قبول کیا اور کیا فرمان ہے ؟ فرمایا جب علم حاصل کرنے سے فارغ ہوجاؤ تو اپنا روحانی خاندان زندہ کرو ۔  تمہارے آباؤ اجداد اولیاء و صاحبِ کرامات تھے ۔  خواجہ مودود نے کہا حضرت آپ مجھے اپنے آباؤ اجداد کا سلسلہ زندہ کرنے کا فرماتے ہیں  تو پہلے تبرکاً مجھے مسند پر بٹھا دیں ۔  فرمایا آگے آو یہ آگے آئے حضرت شیخ الاسلام نے ہاتھ پکڑ کر اپنی مسند کے کنارے پر بٹھایا اور فرمایا تمہیں  مسند پر بٹھاتا ہوں  بشرطیکہ تم عالم بنو یہ تین مرتبہ فرمایا حضرت خواجہ مودود تین دن اور حاضر رہے فیض وبرکات لئے نوازشیں  حاصل کیں  پھر علم حاصل کرنے کے لئے بلخ و بخارا تشریف لے گئے چار سال میں  علوم میں  کامل ماہر ہوگئے ہر شہر میں  حضرت خواجہ  مودود کی کرامات ظاہر ہوئیں  پھر  علاقہ چشت میں  پہنچے اور مریدوں  کی تربیت میں  مشغول ہوگئے ۔  مختلف جگہوں  سے لوگ حاضر خدمت ہوئے اور حضرت کی برکتوں  سے معرفت کی دولت اور ولایت کا مرتبہ حاصل کیا ۔  حضرت خواجہ شریف زندنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجو نہایت اعلیٰ پائے کے ولی و عارف اور اللہ تَعَالٰیکی بارگاہ تک پہنچے ہوئے بزرگ تھے انہی جناب خواجہ کے مرید و تربیت یافتہ تھے ۔  (نفحات الانس ص ۲۰۹ ۔  ۲۱۱)

ستاونواں  قول : حضرت مولانا نور الدین جامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں  ’’ اگر خلافِ عادت ایک لاکھ افعال بھی ظاہر ہوں  جب تک ان کا ظاہر شریعت کے احکام کے موافق نہ ہو اور باطن طریقت کے آداب کے مطابق نہ ہو وہ درست ہے استدراج ہوگا ولایت وکرامت نہیں ‘‘ (نفحات



Total Pages: 23

Go To