We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ خلاصہ یہ ہے کہ کسی مخزومی کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ پر عامل بنایا جس کو زکوۃ سے ہی معاوضہ دیا جاتا،اس مخزومی نے حضو ر انور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزادکردہ غلام جن کا نام اسلم ہے کنیت ابورافع سے کہاتم بھی میرے ساتھ چلو جو اجرت ملے گی اس میں تمہارا حصہ ہوگا جس سے تمہارا کچھ کام چل جائے گا،یہ مطلب نہیں ہے کہ میں خود اجرت لے کر اپنی طرف سے تم کو ہدیۃً دے دوں گا۔

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ یہاں مسئلہ پوچھنا مراد نہیں بلکہ ساتھ جانے کی اجازت حاصل کرنا مراد ہے ابو رافع اگرچہ جسمًا آزاد ہوچکے تھے مگر ان کا دل ہمیشہ کے لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوچکا تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پوچھے جنبش بھی نہیں کرتے۔

۳؎ یعنی اے ابو رافع تم ہو ہمارے غلام اور ہم ہیں بنی ہاشم سے،چونکہ بنی ہاشم زکوۃ کے عامل بن کر اس سے اجرت بھی نہیں لے سکتے لہذا تم بھی یہ اجرت نہیں لے سکتے۔اس حدیث سے دو مسئلے نہایت اہم حاصل ہوئے:ایک یہ کہ حضرات بنی ہاشم خصوصًا سیدوں کی شان اسلام میں بہت اعلیٰ ہے کہ غنی عامل زکوۃ سے اجرت لے سکتا ہے مگر یہ حضرات تو کیا ان کا زر خرید غلام یہ اجرت بھی نہیں لے سکتا۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو آج کل سیدوں کو زکوۃ کھانا جائزکرنے کی دھن میں ہیں،سادات کو زکوۃ لینا ہرگز جائزنہیں۔ دوسرے یہ کہ شان والوں کی نسبت سے ادنی بھی شان والے بن جاتے ہیں،دیکھو سید کا غلام اگرچہ کسی قوم سے ہو زکوۃ نہیں لے سکتا  بلکہ زکوۃ سے اجرت عمل بھی نہیں وصول کرسکتا۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں نسبت کیا چیز ہے صرف اپنے عمل اچھے چاہئیں ۔تیسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم احکام قرآنیہ کو عام و خاص فرماسکتے ہیں،دیکھو رب تعالٰی نے مطلقًا فرمایا:"وَالْعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا"مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت سے اپنی اولاد بلکہ ان کے غلاموں کو علیحدہ کردیا ورنہ قرآن کریم نے سید وغیر سید کا فرق مصرف زکوۃ کے بیان میں کوئی نہ کیا۔چوتھے یہ کہ سچے پیغمبروں نے نبوت کو ذریعۂ معاش قرار نہ دیا۔مرزا قادیانی اس نبوت کے ذریعہ خود مالا مال ہوگیا،بلکہ اپنی اولاد کو سکھا گیا کہ بہشتی مقبرہ کی قبریں بیچ کر مزے اڑایا کرو نعوذباﷲ منہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے تاقیامت اپنی اولاد کو زکوۃ کی آمدنی سے محروم فرمایا انہیں حکم دیا کہ تم زکوۃ دو مگر غریب ہوکر لو نہیں۔

1830 -[10]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد والدارمي

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ صدقہ نہ تو غنی کو حلال ہے نہ صحیح اعضاء والے کو ۱؎(ترمذی، ابوداؤد،دارمی)

۱؎ یہ حدیث حضرت امام شافعی کی دلیل ہے،ان کے ہاں تندرست اور کمانے کی قدرت رکھنے والا زکوۃ نہیں لے سکتا اگرچہ فقیر ہو،امام اعظم کے ہاں لے سکتا ہے،امام اعظم کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے "لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ" الایہ۔اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل کہ سرکار اصحاب صفہ کو جو ستر تھے اور سب کمانے پر قادر تھے مگر انہوں نے اپنے کو علم دین سیکھنے کے لیے وقف کردیا زکوۃ دیتے تھے، اس کا ذکراسی آیت مذکورہ میں ہے یہ حدیث اس آیت اس عمل سے منسوخ ہے یا یہاں لَایَحِلُّ کے معنے ہیں لائق نہیں،یعنی غنی کو صدقہ لینا لائق نہیں حرام ہے اور تندرست فقیر کو لائق نہیں۔(غیر مناسب ہے)یا صدقہ سے مراد بھیک مانگنا ہےجیسا کہ اگلے باب کی احادیث سے ثابت ہے،وہ احادیث اس حدیث کی شرح ہیں امام اعظم کا



Total Pages: 441

Go To