Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۳؎ یہاں طعام کو گندم کے مقابل فرمایا گیا۔معلوم ہوا کہ اس سے سواء گندم دوسرے غلے مراد ہیں لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کی گویا شرح ہے جہاں فرمایا گیا تھا کہ طعام کا ایک صاع واجب ہے۔خیال رہے کہ فطرہ میں اصل گندم و جَو،جوار ہیں،اگر ان کے سواءکسی اور غلہ یا دوسری چیز سے فطرہ دیا گیا تو ان مذکورہ دانوں کی قیمت کا لحاظ ہوگا لہذا چاول باجرہ آدھے صاع گیہوں کی قیمت کے دینے ہوں گے۔

1820 -[6]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ أَوْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَاعٌ مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ عَنْ كُلِّ اثْنَيْنِ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى. أَمَّا غَنِيُّكُمْ فَيُزَكِّيهِ اللَّهُ. وَأَمَّا فَقِيرُكُمْ فَيَرُدُّ عَلَيْهِ أَكْثَرَ مَا أعطَاهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن ثعلبہ سے یا ثعلبہ ابن عبداﷲ ابن ابی صُعیر سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک صاع گندم دوشخصوں کی طرف سے ہے چھوٹے یا بڑے آزاد یا غلام مرد عورت لیکن ۲؎ تم میں کے مالدار اﷲ اسے تو پاک فرمادے گا اور لیکن تمہارا فقیر اللہ اسے دئیے سے زیادہ دے گا۳؎(ابوداؤد)

۱؎ آپ عبداﷲ ابن ثعلبہ ابن ابی صعیر ہیں،آپ تابعی ہیں مگر آپ کے والد ثعلبہ صحابی ہیں جن سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے، صعیر کی وفات  ۸۷ھ؁    یا    ۸۹ھ؁   میں ہوئی،قریبًا نوے سال عمر پائی اور عبداﷲ ابن ثعلبہ ہجرت سے چار سال پہلے پیدا ہوئے اور   ۸۹ھ؁  میں فوت ہوئے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے مگر کچھ سماعت ثابت نہیں۔(مرقات)

۲؎  یعنی چھوٹے بڑے آزاد غلام سب کا فطرہ یکساں ہے آدھا صاع گندم۔

۳؎ اس حدیث سے بظاہرمعلوم ہوتا ہے کہ فقیر پربھی فطرہ واجب ہے مگر یہ حدیث قابل حجت نہیں کیونکہ اس کے اسناد میں نعمان ابن راشد ہے جو سخت ضعیف ہے،امام بخاری نے فرمایا کہ یہ وہمی ہے،امام احمد نے فرمایا یہ حدیث صحیح نہیں پھر ان راوی کے نام میں بہت گفتگو ہے،عبدالرزا ق نے یہ حدیث بسند صحیح ابن جریج عن ابن شہاب عن عبد الله ابن ثعلبہ روایت کی تو اس میں فقیروغنی کا ذکر نہیں،صرف یہ ہے کہ ایک صاع گندم دو کی طرف سے ادا کرو۔اس کی پوری اور نفیس تحقیق یہاں مرقات میں دیکھو،نیز اگر ہر فقیر و غنی پر صدقہ فطر دینا واجب ہوجائے تو پھر فطرہ لینے والا کون ہوگا کیونکہ یہ تو اصول اسلام کے خلاف ہے کہ فقیر فطرہ دےبھی اور دوسروں کا فطرہ لے بھی۔


 



Total Pages: 441

Go To