Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1809 -[16]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي أَيْدِيهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهُمَا: «تُؤَدِّيَانِ زَكَاتَهُ؟» قَالَتَا: لَا. فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ بِسِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟» قَالَتَا: لَا. قَالَ: «فَأَدِّيَا زَكَاتَهُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث قد رَوَاهُ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ نَحْوَ هَذَا وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ وَابْنُ لَهِيعَةَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْء

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ دو عورتیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن (کڑے)تھے ان سے حضور انور نے فرمایا کہ تم ان کی زکوۃ دیتی ہو ۱؎  وہ بولیں نہیں تب ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم پسند کرتی ہو کہ اﷲ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے ۲؎ وہ بولیں نہیں فرمایا تو ان کی زکوۃ دیا کرو(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث مثنی ابن صباح نے روایت کی عمرو ابن شعیب سے اس کی مثل اور مثنی ابن صباح اور ابن لہیعہ حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں اور اس باب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں۳؎

۱؎ یہ سونے چاندی کے کنگن پہننے کے لیے تھے،تجارتی نہ تھے،وزنی تھے کہ ساڑھے سات تولہ ان کا وزن تھا اس لیے ان بیبیوں سے پوچھا گیا،یہ سوال فرمانا آئندہ حکم کی تمہید ہے جیسے رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام سے پہلے پوچھا کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے،کیوں پوچھا؟ آئندہ کلام کی تمہید کے لیے لہذا اس سوال سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بے علمی ثابت نہیں ہوسکتی،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر امتی کے ہر ایک عمل سے خبردار ہیں،دیکھو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ کے کس امتی کے اعمال آسمان کے تاروں کے برابر ہیں تو فرمایا عمر فاروق کے،رضی اللہ تعالٰی عنہ۔معلوم ہوا کہ ہر امتی کے اعمال بلکہ ان کے ٹوٹل کی بھی خبر ہے۔

۲؎  اس وعید سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں زکوۃ سے مراد شرعی فرضی زکوۃ ہے نہ کہ نفلی صدقہ کیونکہ نفل ادا نہ کرنے پر سزا یا وعید نہیں ہوتی۔

۳؎  شاید امام ترمذی کو یہ حدیث صحیح ہو کر نہ ملی تو وہ اپنے علم کی بنا پر یہ فرما گئے ورنہ اصل حدیث بہت اسنادوں سے مروی ہے۔چنانچہ ابوداؤد و نسائی اور ابن ماجہ بلکہ خود ترمذی نے بھی حضرت علی سے روایت کی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاندی کی زکوۃ ہر چالیس درہم سے ایک درہم ادا کرو،نیزابوداؤدونسائی نے روایت کی کہ ایک عورت اپنی لڑکی کو لےکر حاضر بارگاہ نبوی ہوئی جس کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے تو فرمایا کہ کیا ان کی زکوۃ دیتی ہو عرض کیا نہیں فرمایا کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ کل تم کو دوزخ میں آگ کے کنگن پہنائے جائیں تو اس نے فورًا کنگن اتارکر حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھینک دئیے اور بولی یہ اﷲ رسول کے لیے صدقہ ہیں یہ حدیث بالکل صحیح الاسنادہے،نیز ابوداؤد نے عبداللہ ابن شداد ابن الہاد سے روایت کی کہ ہم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اپنا واقعہ سنایا کہ میرے پاس ایک بار حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں ہاتھوں میں کنگن پہنے بیٹھی تھی تو فرمایا اے عائشہ کیا ان کی زکوۃ دیتی ہو میں بولی نہیں تو فرمایا دوزخ میں جانے کے لیے یہ کافی ہیں،اسے حاکم نے بھی نقل فرمایا اور فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔غرضکہ زیور پر زکوۃ واجب ہونے کی صحیح احادیث بہت ہیں اور قرآنی آیات سے ان کی تائید ہے،اگلی حدیث بھی آرہی ہے۔(فتح القدیر،مرقات)خیال رہے کہ ابن لہیعہ کو امام ترمذی نے ضعیف کہا مگر امام طحاوی نے ان کی توثیق کی ہے،امام اعظم کا مذہب نہایت قوی ہے اور استعمالی زیوروں پر زکوۃ فرض ہے۔

1810 -[17]

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: «مَا بلغ أَن يُؤدى زَكَاتُهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ  میں سونے کے کنگن پہناکرتی تھی میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ بھی خزانہ کرنا ہے ۱؎ فرمایا جو وجوب زکوۃ کی حدکو پہنچے تو تم اس کی زکوۃ دیتی رہو تو خزانہ نہیں ۲؎(مالک وابوداؤد)

 



Total Pages: 441

Go To