Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ جنت کا ذریعہ رحمت الٰہی ہے اور رحمت کا ذریعہ نیک اعمال ہیں لہذا اعمال سے غافل نہ ہو منزل قریب ہے۔ خیال رہے کہ رات میں سفر زیادہ طے ہوجاتا ہے ایسے مسافر آخر رات کے لیے رات کی عبادت سے جلد منزل مقصود پرپہنچ جاتا ہے۔

2372 -[9]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُدْخِلُ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ وَلَا يُجِيرُهُ مِنَ النَّارِ وَلَا أَنا إِلا برحمةِ الله» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم میں سے کسی کو اس کا عمل نہ تو جنت میں پہنچا سکے گا نہ آگ سے بچا سکے گا اور نہ مجھے مگر اﷲ کی رحمت سے ۱؎(مسلم)

۱؎ علماء فرماتے ہیں کہ دخول جنت اﷲ کے فضل سے ہے اور وہاں کے درجات کا حصول اعمال کے وسیلہ سے ہے خواہ خود اپنے عمل ہوں یا اپنے ماں باپ یا اولاد کے عمل۔اس حدیث کا یہ ہی مطلب ہے جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اعمال اﷲ کے فضل سے جنت کا باعث بنے تو ماشما کس شمار میں ہیں۔

2373 -[10]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ سَيِّئَةٍ كَانَ زَلَفَهَا وَكَانَ بَعْدَ الْقِصَاصِ: الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهَا ". رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو بندہ مسلمان ہو اور اس کا اسلام اچھا ہو۱؎ تو اﷲ تعالٰی اس کے سارے کئے ہوئے گناہ مٹا دیتا ہے ۲؎ اس کے بعد قصاص ہوتا رہتا ہے۳؎ کہ نیکی تو دس گنے سے لے کرسات سو گنا بلکہ بہت زیادہ گنا تک ہے ۴؎ اور گناہ اس کے برابر مگر یہ کہ اﷲ تعالٰی معافی دیدے ۵؎(بخاری)

۱؎ اس طرح کہ اخلاص کےساتھ دل سے مسلمان ہو منافقت سے کلمہ نہ پڑھے۔

۲؎ زمانۂ کفر کے سارے گناہ اسلام سے ختم ہوجاتے ہیں حقوق العباد معاف نہیں ہوتے لہذا زمانۂ کفر کے قرض، ظلمًا قتل وغیرہ اس کے ذمہ رہیں گے اسی لیے سیئہ فرمایا گیا۔معلوم ہوا کہ زمانۂ کفر کی نیکیاں برباد نہیں ہوتیں بلکہ اسلام کے بعد وہ قبول ہوجاتی ہیں۔

۳؎  یعنی مسلمان ہوچکنے کے بعد بدلہ ہوا کرے گا اس بدلے کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

۴؎  یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"اور"مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوٰلَہُمْ" الخ۔ زمانہ کفر کے سارے گناہ اسلام سے ختم ہوجاتے ہیں حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔

۵؎  یہ رب تعالٰی کا فضل ہے کہ ایک نیکی پر سات سو بلکہ اس سے زیادہ تک جزاء اور ایک گناہ کی جزاء صرف ایک۔مگر خیال رہے کہ جیسا گناہ ویسی جزاء،بعض گناہ وہ ہیں جن سے نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں۔غرضکہ گناہ کی سزا مقدار میں نہ بڑھے گی۔رہی کیفیت اس میں فرق ہوگا،پھر رب کی معافی کی دو صورتیں ہیں:یا تو بندوں کو توبہ کی توفیق دے دی جائے یا بغیر توبہ ویسے ہی بخش دیا جائے۔

2374 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الحسناتِ والسيِّئاتِ: فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لهُ عندَهُ حَسَنَة كَامِلَة فَإِن هم بعملها كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَمَنْ هَمَّ بسيئة فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً فَإِن هُوَ هم بعملها كتبهَا الله لَهُ سَيِّئَة وَاحِدَة "

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی نے نیکیاں اور گناہ تحریر فرما دیئے ہیں ۱؎ تو جو نیکی کا ارادہ کرے مگر کرے نہیں تو اسے اﷲ اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھتا ہے ۲؎ پھر اگر قصد کرے اور نیکی کرے تو اسے اپنے ہاں دس سے سات سو گنا تک بلکہ بہت زیادہ گنا تک لکھ لیتا ہے۳؎ اور جو گناہ کا ارادہ کرے پھر کرے نہیں اس کے لیے بھی اﷲ تعالٰی ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے۴؎ پھر اگر گناہ کا ارادہ کرے پھر کر بھی لے تو اسے اﷲ تعالٰی ایک گناہ لکھتا ہے ۵؎ (مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 441

Go To