Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ اس حدیث کی مکمل شرح بھی کچھ پہلے ہوچکی کہ امام اعظم کے ہاں یہاں زکوۃ سے زکوۃ تجارت مراد ہے،چونکہ اس زمانہ میں ایک وسق یعنی ساٹھ صاع چالیس درہم کا ہوتا تھا اور پانچ وسق دو سو درہم کے اس لیے پانچ وسق سے کم میں زکوۃ نہ تھی،زکوۃ پیداوار مراد نہیں کہ یہ تو ہر تھوڑے زیادہ میں ہے۔

1803 -[10]

وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ. مُرْسل رَوَاهُ فِي شرح السّنة

روایت ہے حضرت موسیٰ ابن طلحہ سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت معاذ ابن جبل کی کتاب ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طر ف سے ہے فرمایا کہ انہیں حضور نے یہ حکم دیا کہ وہ گیہوں،جو کشمش،کھجور سے زکوۃ لیں۲؎(شرح سنہ)

۱؎ آپ کا نام موسیٰ ابن طلحہ ابن عبداﷲ ہے،تمیمی ہیں،قرشی ہیں،تابعی ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا تو ہوئے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کرسکے،آپ کا نام موسیٰ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے رکھا،آپ کے والد طلحہ عشر ہ مبشرہ میں سے ہیں۔

۲؎  یہ حدیث ظاہری معنے سے امام اعظم کی دلیل ہوسکتی ہے کیونکہ اس میں ان چیزوں کا وزن مقرر نہ کیا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیداوار میں مطلقًا زکوۃ واجب ہے کم ہو یا زیادہ۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ فرمارہے ہیں ہمارے پاس معاذ ابن جبل کی ہی مضمون کی کتاب بھی ہے اور ہمیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خبر بھی پہنچی ہے۔اس صورت میں یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ تابعی نے بغیر ذکر صحابی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نقل کردی،اسی معنے کی بنا پر مصنف نے اسے مرسل فرمایا اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت معاذ کی وہ کتاب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو حضرت معاذ نے لکھ لیاتھا،اس صورت میں یہ حدیث مرسل نہیں بلکہ متصل ہے۔

1804 -[11]

وَعَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي زَكَاةِ الْكُرُومِ: «إِنَّهَا تُخْرَصُ كَمَا تُخْرَصُ النَّخْلُ ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عتاب ابن اسید سے  ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کی زکوۃ کے بارے میں فرمایا کہ اس کا یوں ہی انداز ہ لگایا جائے جیسے کھجور کا لگایا جاسکتا ہے پھر اس کی کشمش سے یوں ہی زکوۃ دی جائے جیسے کھجور سے چھوہاروں کی دی جاتی ہے۲؎(ترمذی و ابوداؤد)

۱؎ آپ قرشی ہیں،اموی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور آپ کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کا حاکم بنایا،صدیق اکبر نے اپنی خلافت میں آپ کو اس عہدہ پر بحال رکھا،صدیق اکبر کی وفات کے دن آپ کی مکہ مکرمہ میں وفات ہوئی،وہیں دفن ہوئے،کل پچیس سال عمر پائی،بڑے صالح متقی تھے۔

۲؎  حدیث بالکل ظاہر ہے کہ انگور کے باغ کا مالک سارے انگور توڑ کر وزن کرکے زکوۃ نہ نکالے بلکہ پہلے تو یہ اندازہ لگائے کہ کل پھل کتنا ہوگا،پھر یہ کہ کشمش ہوکر کتنا رہے گا اس کا دسواں یا بیسواں حصہ زکوۃ نکالے،چونکہ خیبر پہلے ۷ ہجری میں فتح ہوچکا تھا جہاں کھجور کے باغات ہیں وہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداﷲ ابن رواحہ کو اندازہ لگانے کے لیے بھیجاتھا اور طائف بعد میں فتح ہوا جہاں انگور کے باغات بکثرت تھے اس لیے حضور انور نے انگور کی زکوۃ کو کھجور کی زکوۃ سے تشبیہ دی۔(ازمرقات)

 



Total Pages: 441

Go To