Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1800 -[7]

وَعَنْ مُعَاذٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَمْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ الْبَقَرَة: مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً وَمِنْ كل أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ والدارمي

روایت ہے حضرت معاذ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن میں بھیجا ۱؎  تو حکم دیا کہ گائے میں ہرتیس سے ایک سالہ نر یا مادہ وصول کریں اور ہر چالیس سے دو سالہ۲؎ (ابو داؤد،ترمذی،نسائی،دارمی)

۱؎ وہاں کا حاکم بناکر،چونکہ اس زمانہ میں اسلامی حکام لوگوں کے ظاہری مال یعنی جانوروں اور زمینوں کی زکوۃ بھی وصول کرتے تھے جو بعد میں اپنے مصرف پر بہت احتیاط سے خرچ کردی جاتی تھی اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ تلقین فرمائی۔

۲؎  بقر کے معنی ہیں چیرنا پھاڑنا،چونکہ بیل زمین میں ہل چلاتے ہیں جن سے زمین چر جاتی ہے اس لیے اسے بقر کہتے ہیں،بقرہ میں تا تانیث کی نہیں،وحدۃ نوعی یا صنفی کی ہے لہذا یہ لفظ بیل پر بولا جاتا ہے،چونکہ عرب میں بھینس نہیں ہوتی اس لیے ان کا ذکر نہ فرمایا ورنہ بھینس کی زکوۃ بھی گائے کی طرح ہے۔خلاصہ یہ کہ گائے بھینس کا نصاب تیس ہے تیس میں ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی واجب ہے،پھر چایس تک زکوۃ نہ بڑھے گی اور چالیس میں دوسالہ بچھڑا یا بچھڑی واجب،ساٹھ میں دو تبیعے اور ستر میں ایک تبیعہ اور ایک مسنہ۔غرضکہ ہرتیس پر تبیعہ واجب ہوتا رہے گا(یکسالہ)اور ہر چالیس پر مسنہ(دو سالہ)چالیس کے بعد ساٹھ سے کم میں بہت اختلاف ہے،صاحبین کے ہاں اس زیادتی سے زکوۃ نہ بڑھے گی،امام اعظم سے اس میں تین روایتیں ہیں۔اس کی تحقیق ہدایہ کی شرح میں دیکھو،یہ حدیث اگرچہ منقطع ہے کیونکہ اس میں مسروق نے حضرت معاذ سے روایت کی مگر انہوں نے معاذ سے ملاقات نہیں کی لیکن چونکہ بہت احادیث سے اسے تقویت پہنچ چکی ہے اس لیے قابل عمل ہے اسی لیے ترمذی نے اسے احسن فرمایا۔

1801 -[8]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ زکوۃ میں حد سے تجاوز کرنے والا زکوۃ نہ دینے والے کی طرح ہے ۱؎ (ابوداؤد،ترمذی)

۱؎ اس حدیث کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ جو عامل زکوۃ وصول کرنے میں زیادتی کرے کہ یا زیادہ لے یا بہترین مال لے وہ ایسا ہی گنہگار ہے جیسے زکوۃ نہ دینے والا یا جو مالک زکوۃ دینے میں زیادتی کرے کہ یا تو کم دینے کی کوشش کرے یا ناقص یا ٹال مٹول کرے وہ ایسا ہی گنہگار ہے جیسے زکوۃ نہ دینے والا۔علماء فرماتے ہیں کہ زکوۃ خوشدلی سے دو،اسے عبادت سمجھو ٹیکس نہ سمجھو، مستحق کو دو،جان بوجھ کر غیرمستحق کو نہ دو،دے کر احسان نہ جتاؤ،اگر اپنے عزیزفقیر کو دی ہے تو اسے طعنہ نہ دو بلکہ اس کاذکر کھبی بھی نہ کرو کہ ان سے صدقہ باطل ہوجاتاہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰی"۔اور یہ سب حد سے بڑھنے میں داخل ہیں۔

1802 -[9]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ صَدَقَةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دانوں اور کھجوروں میں زکوۃ نہیں حتی کہ پانچ وسق کو پہنچیں ۱؎(نسائی)

 



Total Pages: 441

Go To