Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2321 -[28]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَسلَمَ عَبدِي واستسلم ". رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتادوں جو عرش کے نیچے سے آیا ۱؎ جنت کے خزانوں سے ہے ۲؎  وہ لاحول ولا قوۃ الا باﷲ ہے، رب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ فرمانبردار ہوگیا اور اس نے اپنے کو میرے سپردکردیا ۳؎  یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دعوات کبیر میں نقل کیں۔

۱؎ یہ ترجمہ بہت بہتر ہے کیونکہ مِنْ تَحْتَ الْعَرْشِ میں لفظ مِنْ ابتدائیہ ہے،روزی کے خزانے آسمان میں ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ"مگر خاص رحمت کا خزانہ عرش اعظم کے نیچے ہے،اسی خزانہ سے سورۂ بقر کی آخری آیات آئیں اور اسی خزانہ سے لاحول شریف آئی۔معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو رب تعالٰی کے تمام خزانوں کی خبر ہے تب ہی تو فرماتے ہیں کہ یہ فلاں خزانہ کا موتی ہے۔

۲؎  یعنی لاحول شریف بنی عرش کے نیچے رہی،جنت کے خزانہ میں اس کا خزانہ تکوینی و تخلیقی زیر عرش ہے خزانہ امانت جنت ہے جیسے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ نیل وفرات جنت کی نہریں ہیں۔

۳؎ یعنی جو بندہ لاحول شریف کی کثرت کرے تو رب تعالٰی اس کے متعلق فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس بندے نے اپنے کو بالکل میرے سپرد کردیا اب میں اس کی ہر بات کا والی وارث ہوگیا،بلا تشبیہ جیسے بچہ اپنے کو ماں کے حوالے کردیتا ہے تو اس کی ساری فکریں ماں اٹھالیتی ہے اور بچہ ہر فکر سے آزاد ہوجاتا ہے،یہ رب تعالٰی کی بڑی نعمت ہے کسی کسی کو میسر ہوتی ہے۔

2322 -[29]

وَعَن ابْن عمر أَنَّهُ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ هِيَ صَلَاةُ الْخَلَائِقِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَلِمَةُ الشُّكْرِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أسلم عَبدِي واستَسلَم. رَوَاهُ رزين

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ نے فرمایا سبحان اﷲ ساری مخلوق کی عبادت ہے ۱؎ اور الحمدﷲ کلمہ شکر ہے ۲؎  اور لا الہ الا اﷲ اخلاص کا کلمہ ہے ۳؎  اور اﷲ اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھردیتا ہے۴؎  اور جب بندہ کہتا ہے لاحول ولا قوۃ الا باﷲ تورب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ مطیع ہوگیا اور اپنے کو میرے سپردکردیا۔(رزین)

۱؎ یعنی ہر مخلوق رب تعالٰی کی تسبیح بزبان قال کرتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"دوسری جگہ فرماتاہے:"قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہٗ وَتَسْبِیۡحَہٗ"۔حق یہ ہے کہ ہر چیز کو رب تعالٰی کی معرفت حاصل ہے اور وہ بزبان قال نہ کہ فقط حال سے تسبیح کرتی ہے اولیاءاﷲ ان تسبیحوں کو سنتے ہیں،صحابہ کرام کھاتے وقت لقمے کی تسبیح سنتے تھے حتی کہ سبزہ کی تسبیح کی برکت سے عذاب قبر میں تخفیف ہوتی ہے۔

۲؎  یعنی شکر کا ستون ہے یا شکر کی چوٹی ہے جس کے بغیر شکر مکمل نہیں ہوتا۔(ازمرقات)

۳؎  لاالہ الا اﷲ سے مراد پورا کلمہ ہے،اخلاص سے مراد ہے چھٹکارا اور رہائی یعنی اس کلمہ طیبہ کی برکت سے بندہ دنیا میں کفر سے اور آخرت میں دوزخ سے رہائی پاتاہے یا اخلاص ریاء کا مقابل ہے،بمعنی خلوص نیت یعنی یہ کلمہ اگر خلوص نیت سے پڑھا جائے تو مفید ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To