Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲۵؎ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ چاندی  سونے  کی  زکوۃ  وزن  پر ہوتی ہے  نہ  کہ  قیمت  پراور اس کا  ادنی  نصاب  دوسو درہم یعنی ساڑھے باون تولہ ہے،چالیسواں حصہ زکوۃ ہے یعنی سو روپے پر ڈھائی روپے اور ہزار پر پچیس۔اس کی پوری بحث کتب فقہ میں دیکھو۔

1797 -[4]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ. وَمَا سقِي بالنضح نصف الْعشْر» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا اس زمین میں جسے آسمان یا چشمے سیراب کریں یا ہو فارغ ۱؎ اس میں دسواں حصہ ہے اور جسے پانی کھینچ کر سیراب کیا جائے اس میں بیسواں حصہ ہے ۲؎ (بخاری)

۱؎ عربی میں عثریٰ وہ زمین کہلاتی ہے جو پانی سے قریب ہونے کی وجہ سے خود بخود تر رہتی ہو اور اس کا مالک اسے پانی دینے سے فارغ ہو۔حدیث شریف میں ہے کہ عثری آدمی برا ہے یعنی جو دین و دنیا سے فارغ ہو کر کچھ کام نہ کرے وہ بُرا ہے۔(ازمرقات و اشعہ)نیز جس درخت کی جڑیں گہرائی میں پہنچ کر زمین کی قدرتی تری خود لے لیں اسے عثریٰ کہتے ہیں۔

۲؎ خلاصہ یہ ہے کہ جس کھیت میں پانی دینے پر مالک کا خرچ ہو اس کی زکوۃ بیسواں حصہ ہے ورنہ دسواں۔ کھینچنے میں کنوئیں سے، نہر سے،دریا سے کھینچنا سب شامل ہے۔

1798 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «العجماء جرحها جَبَّار والبشر جَبَّار والمعدن جَبَّار وَفِي الرِّكَاز الْخمس»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جانوروں کا زخم باطل ہے ۱؎ اور کنواں باطل ہے اور کان باطل ہے ۲؎ اور کان میں پانچواں حصہ ہے ۳؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی اگر کسی کا کوئی جانور گھوڑا،گائے،بھینس بدک کر مالک سے چھوٹ جائے اورکسی کو زخمی کردے تو مالک پر اس زخم کا قصاص یا تاوان نہ ہوگا کیونکہ یہاں مالک بےقصور ہے ہاں اگر مالک کی غفلت یا اس کے قصور سے جانور نے کسی کو جانی یا مالی نقصان پہنچایا تو مالک ذمہ دار ہے جیسے کوئی اپنا کٹ کھنا کتا دن میں کھلا چھوڑے اور وہ کسی کو زخمی کردے یا کسی کا جانور ماردے۔ان شاءاﷲ اس کی پوری تحقیق کتاب القصاص میں آئے گی۔

۲؎ یعنی اگر کوئی شخص کسی کے کنوئیں یا کان میں گر کر مرجائے تو کنویں اور کان والے پر ضمان نہیں کہ وہ بےقصور ہے،ہاں اگر کوئی شخص راستہ میں کنواں یا گڑھا کھود دے جس میں کوئی گر کر مرجائے اب یہ ذمہ دار ہے کیونکہ مجرم ہے۔

۳؎ یعنی اگر کسی کی زمین میں سونے چاندی یا کسی دھات کی قدرتی کان نکل آئے  وہ پانچواں حصہ حکومت اسلامیہ کو دے گا اور چار حصہ اپنے خرچ میں لائے گا۔خیال رہے کہ رکاز رکز سے بنا جس کے معنے ہیں چھپنا یا خفیہ ہونا اسی لیے پاؤں کی آہٹ کو رکز کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَوْ تَسْمَعُ لَہُمْ رِکْزًا"۔جانور کے لات مار دینے کوبھی رکزکہتے ہیں۔اصطلاح میں رکز کان کو بھی کہتے ہیں اور دفینہ یعنی گاڑھے ہوئے خزانہ کو بھی۔امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں رکاز سے کان مراد ہے اور امام شافعی کے ہاں دفینہ،امام اعظم کی دلیل وہ حدیث ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا رکاز کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ وہ سونا جسے رب تعالٰی نے زمین میں قدرتی پیدا فرمایا۔(بیہقی عن ابی ھریرہ)نیز یہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے رکاز کا ذکر معدن کے ساتھ کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی معدن ہی ہے۔مرقات نے فرمایا کہ کان سے بعض چیزیں گل جانے والی پیدا ہوتی



Total Pages: 441

Go To