Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

ثواب علاوہ ہوگا۔خلاصہ یہ ہے کہ ان دو کلموں نے سارے گناہوں کو تو ختم کردیا کہ سب گناہوں کے مقابلہ میں تویہ دو کلمے ہی کافی ہوگئے باقی نیکیاں نفع میں بچیں۔

۲؎  اس میں اشارۃً فرمایا کہ لا الہ الااﷲ ان دو کلموں سے بھی افضل ہے،کیوں نہ ہو کہ یہ ساری تنزیہہ و تحمید کو شامل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کلمہ طیبہ بہت جلد قبول ہوتا ہے،براہ راست رب تعالٰی تک پہنچتا ہے جس قدر ہمارا اخلاص زیادہ اسی قدر کلمے کی قبولیت اعلیٰ لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ کلمہ تو منافقین بھی پڑھتے تھے تو کیا وہ مقبول بارگاہ تھے۔

۳؎ مرقات نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد واقعی ضعیف ہے مگر چونکہ اس میں حرام و حلال کے احکام مذکور نہیں صرف کلمہ طیبہ کے فضائل کا بیان ہے اس لیے مقبول ہے۔

2314 -[21]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا قَالَ عَبْدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا قَطُّ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ حَتَّى يُفْضِيَ إِلَى الْعَرْشِ مَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بندہ کبھی خلوص دل سے لا الہ الا اﷲ نہیں کہتا مگر اس کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں حتی کہ وہ کلمہ عرش تک پہنچ جاتا ہے جب تک کہ بندہ کبیرہ گناہوں سے بچا رہے ۱؎ (ترمذی) اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎  گناہ کبیرہ سے بچنے کی شرط کمال ثواب اور کمال قبولیت کے لیے ہے یعنی متقی مسلمان کا کلمہ اعلیٰ درجہ کا مقبول ہوتا ہے اور فاسق و فاجر کا کلمہ قبول تو ہوتا ہے لیکن اس درجہ کا نہیں،تمام ذکر مثل کارتو س ہیں اور ذاکر کی زبان مثل رائفل کے کہ شکار واقعی کارتوس کرتا ہے مگر رائفل کی طاقت سے،قلب کا اخلاص گویا بارود ہے کہ شکار گولی سے ہوگا مگر بارود کی امداد سے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ گناہ نیکی کو نہیں مٹاتا بلکہ نیکی گناہوں کو مٹا دیتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔متقی کی نیکی فساق کی نیکی سے افضل ہے بلکہ جیسا عامل کا درجہ ویسا ہی اس کے عمل کا ثواب، صحابہ کا ساڑھے چار سیر جو خیرات کرنا ہمارے پہاڑ بھر سونا خیرات کرنے سے افضل،کیوں ؟ اس لیے کہ وہ عامل افضل ہیں۔

2315 -[22]

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِي فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ وَأَنَّهَا قِيعَانٌ وَأَنَّ غِرَاسَهَا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ شبِ معراج میں ہماری ملاقات ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی ۱؎ انہوں نے فرمایا یارسول اﷲ اپنی امت کو میرا سلام فرمادیں ۲؎ اور انہیں بتادیں کہ جنت کی زمین بہت زرخیز ہے وہاں کا پانی بہت شیریں جنت میں سفید زمین بہت ہے وہاں کے درخت یہ کلمات ہیں اﷲ پاک ہے اسی کی تعریف ہے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اﷲ بہت بڑا ہے ۳؎ (ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد سے حسن و غریب ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To