Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

فرمانے والا اور رحیم کے معنی ہیں آخرت میں صرف مسلمانوں پر رحم فرمانے والا،چونکہ دنیا آخرت سے پہلے ہے اس لیے رحمن کا ذکر رحیم سے پہلے ہو،اکثر علماء نے لا الہ الا ھو کو اسم اعظم مانا ہے۔

۳؎  دنیا کے بادشاہ تھوڑی زمین کے تھوڑے زمانہ میں بادشاہ ہوتے ہیں،رب تعالٰی بذات خود ہمیشہ سے بادشاہ ہے سارے عالموں کا مالک حقیقی ہے۔قدوس کے معنے ہیں امکان وحدوث سے پاک،کسی کے وہم و خیال میں آنے سے پاک۔سلام کے معنے ہیں عیوب سے پاک۔غرضکہ رب تعالٰی ذاتی و صفاتی عیوب سے ہرطرح پاک ہے لہذا قدوس اور سلام میں بڑا فرق ہے یا سلام کے معنے ہیں مخلوق میں سے اہل ایمان کو سلامتی و امن بخشنے والا۔

۴؎ مؤمن کے معنے ہیں مخلوق کے لیے امن و امان کے سامان پیدا فرمانے والا،جسم کے لیے ہزار ہا بلائیں ہیں،ہر بلا سے حفاظت وامن کا ذریعہ الگ ہے،روح کے لیے بھی لاکھوں آفات ہیں ان کی امان کے لیے ایمان تقویٰ،عرفان پیدا فرمانے والا۔مھیمن کے معنے ہیں خلق کے اعمال، ارزاق،احوال کا حافظ۔عزیز وہ غالب ہے جس کے آستانہ تک کسی کی رسائی بغیر اس کی کرم فرمائی کے نہ ہوسکے اس معنے سے رب تعالٰی کے سوا کوئی غالب نہیں۔

۵؎ جبار جبر سے بنا،بمعنی ٹوٹے کو جوڑنا،کسی کا حال درست کرنا،اسی سے ہے جبر،نقصان یعنی رب تعالٰی بندے کی برائیوں کا بدلہ بھلائیوں سے کرنے والا،ان کے ٹوٹے دلوں،شکستہ حالوں کو اپنے فضل و کرم سے جوڑنے والا۔متکبر تکبر سے بنا جس کا مادہ ہے کبر،تکبر کے معنے ہیں انتہائی بڑائی یعنی مخلوق کے خیال و گمان سے وراء۔شعر

اے برتراز خیال و قیاس و گمان و وہم                            و ازہرچہ گفتہ اند شنیدیم و خواندہ ایم

بندہ متکبر وہ کہلاتا ہے جو بڑا نہ ہو اور اپنے کو بڑا جانے یعنی شیخی خورا۔

۶؎ یہ تینوں لفظ قریب المعنی ہیں۔خالق کے معنے ہیں اندازہ لگانے والا۔باری کے معنے ہیں نیست کو ہست کرنے والا جو کچھ نہ ہو اسے سب کچھ کردینے والا۔مصور کے معنے ہیں ہر چیز کو اس کے لائق صورت نقش عطا فرمانے والا لہذا خلق پہلے ہے پھر برء پھر تصویر۔حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا تھا:"اَخْلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡئَۃِ الطَّیۡرِ"رب تعالٰی نے فرمایاہے:"وَّ تَخْلُقُوۡنَ اِفْکًا"اور فرماتاہے: "فَتَبٰرَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیۡنَ"۔تمام آیتوں میں خلق بمعنی اندازہ کرنا ہے۔

۷؎ غفار غفر سے بنا،بمعنی چھپانا،غفار کے معنے ہیں دنیا میں بندے کے گناہ چھپانے والا اور آخرت میں معاف فرمانے والا،معافی بھی چھپانے ہی کی ایک قسم ہے۔خیال رہے کہ غفار بھی مبالغہ کا صیغہ ہے اور غفوربھی اور یہ دونوں رب تعالٰی کے نام ہیں مگر غفار میں مقدار کے لحاظ سے مبالغہ ہے اور غفور میں کیفیت کے لحاظ سے مبالغہ،کروڑوں گناہوں کو چھپانے وبخشنے والا اور ہر طرح چھپانے بخشنے والا۔

۸؎  قہار قہر سے بنا،بمعنی جائز غلبہ۔ناجائز دباؤ کو ظلم کہا جاتا ہے۔قہار مبالغہ ہے یعنی رب تعالٰی ایسا عظیم الشان غالب ہے کہ بڑی سے بڑی مخلوق اس کے دربار میں عاجز و سرنگوں ہے۔وھاب ھبہ سے بنا جس کے معنے ہیں بغیر عوض و بغیر غرض و لالچ دینا،وھاب مبالغہ ہے یعنی رب تعالٰی ہر مخلوق کو ہر چھوٹی بڑی نعمت بغیر معاوضہ بغیر کسی طمع ہر وقت دیتا ہے،معطی عام ہے وھاب خاص،رب کی عطا بالواسطہ بھی ہے اور بلاواسطہ بھی،فرماتاہے:"وَمَا بِکُمۡ مِّنۡ نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللہِ"لہذا ہمیں بذریعہ انبیاء اولیاء یا بذریعہ اغنیاء کچھ ملنا اس کی وہابیت کے خلاف نہیں۔

 



Total Pages: 441

Go To