Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2286 -[26]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لِكُلِّ شَيْءٍ صِقَالَةٌ وَصِقَالَةُ الْقُلُوبِ ذِكْرُ اللَّهِ وَمَا مِنْ شَيْءٍ أَنْجَى مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ» قَالُوا: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَلَا أَنْ يَضْرِبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى يَنْقَطِعَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور فرماتے تھے کہ ہر چیز کی صیقل ہے اور دلوں کی صیقل اﷲ کا ذکر ہے ۱؎ اور کوئی چیز ذکر اﷲ سے بڑھ کر عذابِ الٰہی سے نجات نہیں دیتی صحابہ نے عرض کیا کہ نہ اﷲ کی راہ میں جہاد فرمایا بلکہ نہ یہ کہ غازی اپنی تلوار سے کفار کو مارے حتی کہ تلوار ٹوٹ جائے ۲؎(بیہقی،دعوات کبیر)

۱؎ دنیاوی الجھنیں اور گناہ آئینہ دل کو میلا کرتے رہتے ہیں اور ذکر اﷲ اس میل کو دور کرکے اس آئینہ کو شفاف بناتا رہتا ہے۔اگر انسان گناہ نہ کرے اور پھر ذکر اﷲ کرے تو دل پر ایسی پالش ہوتی ہے کہ سارا عالم اس دل میں نظر آتا ہے جیسے کہ گھر کا سارا سامان دیوار میں لگے ہوئے شفاف آئینہ میں پھر بندہ عالم کے ہر ذرہ کو کف دست کی طرح دیکھتا ہے حضور غوث اعظم فرماتے ہیں۔شعر

نظرت الی بلاد اﷲ جمیعا                             کخرد لۃ علی حکم اتصال

 قرآن کریم فرمارہا ہے کہ آصف بن برخیا نے شام سے بیٹھے ہوئے تختِ بلقیس کو جو یمن میں تھا دیکھ بھی لیا اور اٹھا بھی لائے،عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نہاوند کی جنگ کو دیکھ بھی لیا اور حضرت ساریہ کو نقشہ جنگ سمجھا بھی دیا۔یہ سب صفائی دل کے کرشمے ہیں ہر چیز کی صفائی علیحدہ ہے کپڑے کی صفائی صابن سے لوہے کی صیقل سے اور دل کی صفائی ذکر اﷲ سے۔

۲؎ یعنی تم تو صرف جہاد کو کہہ رہے ہو،اگر مجاہد اول درجے کا غازی بھی ہو شہید بھی ذاکر اﷲ کے درجے کو نہیں پہنچتا۔ اس کی وجہ پہلے بیان کی جاچکی ہے،یہاں ینقطع کا فاعل یا تو تلوار ہے یا غازی یعنی تلوار ٹوٹ جائے یا غازی کی زندگی کا تار ٹوٹ جائے ذکر اﷲ کے جو معنے عرض کئے گئے ہیں وہ یاد رکھنا کہ اﷲ کا ذکر یہ بھی ذکر اﷲ اس کے محبوب بندوں کا عظمت سے ذکر یہ بھی ذکر اﷲ ہے،اس کے دشمنوں کا برائی سے ذکر یہ بھی ذکر اﷲ ہے،لہذا ہر وقت درود شریف پڑھنے والا بھی اسی میں شامل ہے،درس قرآن کریم،تعلیم حدیث و فقہ سب اس میں داخل۔


 



Total Pages: 441

Go To