Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۷؎ کیونکہ ہر مؤمن پر عمومًا اور صحابہ کرام پر خصوصًا بدگمانی کرنا جائز نہیں بلکہ یہ قسم نہیں تمہاری عظمت و عزت کے اظہار کے لیے ہے۔

۸؎ اس طرح کہ فرشتوں سے فرمارہا ہے میرے ان بندوں کو دیکھو کہ نفس و شیطان کے تسلط میں ہیں،دنیاوی رکاوٹیں موجود ہیں، شہوت و غضب رکھتے ہیں اتنی رکاوٹیں ہوتے ہوئے سب پر لات مار کر میرا ذکر کررہے ہیں یقینًا تمہارے ذکر سے میرا یہ ذکر افضل ہے،چونکہ فرشتوں ہی نے انسان کی شکایت کی تھی کہ وہ خون ریزو فسادی ہوگا اس لیے انہی کو یہ سنایا جارہا ہے کہ دیکھو اگر انسان میں فسادی ہیں تو ایسے نمازی و غازی بھی ہیں جو نفس و شیطان و طغیان و کفار سب سے ہی جہاد کرتے رہتے ہیں۔

2279 -[19]

وَعَن عبد الله بن يسر: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ فَأَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ قَالَ: " لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا بِذكر اللَّهِ)رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن بسر سے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ اسلام کے احکام شرعیہ بہت ہیں ۱؎ مجھے کوئی ایک بات ایسی بتادیں جسے میں مضبوط تھام لوں فرمایا تمہاری زبان اﷲ کے ذکر میں تر رہے ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۳؎

۱؎ جو تفصیل وار مجھے یاد نہیں ہوسکتے وہ مجھ پر غالب ہیں،معلوم ہوا کہ مکمل عالم بننا فرض نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے،ورنہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم انہیں تمام مسائل سیکھنے کا حکم دیتے۔

 ۲؎ غالبًا سائل کا سوال نوافل کے متعلق تھا،اس لیے انہیں یہ جواب دیا گیا مقصد یہ ہے کہ ہر وقت زبان پر کوئی ذکر اﷲ جاری رہے نہ معلوم موت کب آجائے جب بھی ملک الموت تمہاری جان نکالنے آئیں تو تمہیں غافل نہ پائیں،اﷲ تعالٰی ایسی زندگی نصیب کرے،رطب فرما کر اشارۃً بتایا کہ جیسے تر لکڑی آگ میں نہیں جلتی ایسے ہی اﷲ کا ذکر زبان کی تری ہے جس سے بندہ دوزخ میں نہ جل سکے گا۔

۳؎ یہ حدیث ابن حبان،ابن ابی شیبہ اور حاکم نے بھی روایت کیا۔

2280 -[20]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْعِبَادِ أَفْضَلُ وَأَرْفَعُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمِنَ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَوْ ضَرَبَ بِسَيْفِهِ فِي الْكُفَّارِ وَالْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَنْكَسِرَ وَيَخْتَضِبَ دَمًا فَإِنَّ الذَّاكِرَ لِلَّهِ أَفْضَلُ مِنْهُ دَرَجَة».رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب

روایت ہے حضرت ابو سعید سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کون بندے اﷲ کے نزدیک افضل اور قیامت کے دن بلند درجے والے ہیں ۱؎ فرمایا اﷲ کا بہت ذکر کرنے والےاور بہت ذکر کرنے والی عورتیں ۲؎ عرض کیا گیا یارسول اﷲ اﷲ کی راہ کا غازی کون ہے۳؎ فرمایا اگر غازی مشرکین اور کفار پر تلوار اتنی چلائے کہ تلوار ٹوٹ جائے اور خون میں رنگ جائے ۴؎ تب بھی اﷲ کا ذکر کرنے والا اس سے درجہ میں زیادہ ہوگا۵؎(احمد و ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To