Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2275 -[15]

وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ كَلَامِ ابْنِ آدَمَ عَلَيْهِ لَا لَهُ إِلَّا أَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ أَوْ ذِكْرُ اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

روایت ہے حضرت ام حبیبہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے انسان کا ہر کلام اس پر وبال ہے مفید نہیں ۱؎ سوائے اچھی باتوں کے حکم یا بری باتوں سے منع کرنے کے یا اﷲ کے ذکر کے ۲؎ ترمذی،ابن ماجہ،اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ کیونکہ ہمارے کلام یا تو گناہ ہوتے ہیں جن کا مضر ہونا ظاہر ہے یا عبث و بے فائدہ جو لہو ولعب میں داخل ہیں یہ بھی وبال ہوئے اور جائز کلام بھی جب فائدہ اور ثواب سے خالی ہوئےتو آخرت میں ہم کو وبال محسوس ہوں گے،جیسے سفر میں غیرضروری سامان لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔ خیال رہے کہ کل قیامت میں عبث کام ہم پر سوار ہوں گے اور نیک کاموں پر ہم سوار ہوں گے،لہذا عبث بھی وبال ہے۔

 ۲؎ کہ یہ تینوں نیکیاں وبال نہیں بلکہ نیک اعمال ہیں،پہلی دو نیکیاں متعدی ہیں اور آخری تیسری نیکی لازم اگرچہ تبلیغ بھی اﷲ کا ذکر ہی ہے مگر وہ بالواسطہ ذکر ہے اور یہاں بلاواسطہ ذکر مراد ہے اس لیے اس کا ذکر علیحدہ فرمایا،ذکر اﷲ میں سارے اذکار الٰہی داخل ہیں تلاوت قرآن ہو یا درود شریف یا کوئی اور ذکر خیر۔(مرقات)

2276 -[16]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُكْثِرُوا الْكَلَامَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ فَإِنَّ كَثْرَةَ الْكَلَامِ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ قَسْوَةٌ لِلْقَلْبِ وَإِنَّ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللَّهِ الْقَلْبُ الْقَاسِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ذکر اﷲ کے بغیر زیادہ باتیں نہ کرو ۱؎ کیونکہ بغیر ذکر اﷲ زیادہ باتیں دل کی سختی ہے۲؎ اور لوگوں میں سب سے زیادہ اﷲ سے دور سخت دل والا ہے ۳؎(ترمذی)

۱؎ یہاں زیادہ باتوں سے مراد بیکار باتیں ہیں جن کا کوئی فائدہ نہ ہو لہذا تجارتی باتیں گھریلو مفید باتیں جتنی بھی ہوں زیادہ باتوں میں شامل نہیں۔

 ۲؎ سختی دل کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس میں وعظ نصیحت اثر نہیں کرتا،کبھی انسان اپنے گزشتہ گناہوں پر روتا نہیں آیات الہیہ میں غورنہیں کرتا اﷲ تعالٰی محفوظ رکھے زیادہ کلام اور بہت ہنسنا دل کو سخت کرتا ہے اور زیادہ ذکر اﷲ یا اللہ والوں کی صحبت موت کی یاد آخرت کا دھیان قبرستان کی زیارت دل میں نرمی پیدا کرتی ہے۔

۳؎ یہاں دل سے مراد دل والا ہے یعنی سخت دل والا آدمی دنیا میں بھی اﷲ سے دور ہے اور آخرت میں بھی اسی لیے اﷲ تعالٰی نے قرآن کریم میں سختی دل کی بہت برائیاں بیان فرمائی ہیں فرماتاہے:"ثُمَّ قَسَتْ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ"اور فرماتاہے:"اَلَمْ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخْشَعَ قُلُوۡبُہُمْ لِذِکْرِاللہِ"۔جب تک لوہا سخت ہے کچھ نہیں بن سکتا ہے مگر جب نرم ہوگیا تو اسے جس طرح چاہو ڈھال لو،اور جو چاہو اس کا بنالو،یوں ہی سخت دل نہ مؤمن بن سکے نہ عارف نہ متقی نہ پرہیزگار مگر دل نرم ہو کر ولی غوث و قطب سب کچھ بن جاتا ہے،لوہا نرم کرنے کے لیے یہ آگ چاہیئے اور دل نرم کے لیے عشق کی آگ درکار ہے رب تعالٰی نصیب کر ے پھر فقط عشق کی آگ کافی نہیں،بلکہ ساتھ میں کسی کاریگر کے ہتھوڑے کی چوٹ بھی ضروری ہے،مصرع۔

 



Total Pages: 441

Go To