Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

تحقیق ہماری کتاب"تفسیرنعیمی"جلد سوم میں ملاحظہ کیجئے۔حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر آدم علیہ السلام کی دعا سے ساٹھ سال سے سو سال ہوگئی۔

2234 -[12]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِالدُّعَاءِ» . روَاهُ التِّرْمِذِيُّ

2235 -[13]

وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ. وَقَالَ التِّرْمِذِيّ هَذَا حَدِيث غَرِيب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دعا نازل شدہ آفت میں بھی نافع ہے اور اس بلا میں بھی جو نہ اتری ہو  ۱؎ تو اے اللہ کے بندو دعا کو مضبوط پکڑو ۲؎ (ترمذی)

 

اور احمد بروایت معاذ ابن جبل اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ یعنی دعا کے دو فائدے ہیں: ایک یہ کہ اس کی برکت سے آئی بلا ٹل جاتی ہے۔دوسرے یہ کہ آنے والی بلا رک جاتی ہے،لہذا فقط بلا آنے پر ہی دعا نہ کرو بلکہ ہر وقت دعا مانگو شائد کوئی بلا آنے والی ہو کہ اس دعا سے رک جائے۔اس کا مطلب وہ ہی ہے جو ابھی بیان ہوا کہ یہ سب تقدیرمعلق کے متعلق ہے۔

۲؎ اس طرح کہ حال میں دعائیں مانگو،دعا کیلیے بلاء آنے کا انتطار نہ کرو کہ جب آفت آئے گی تو دعا مانگ لیں گے ۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ جیسے ڈھال سلاح یعنی ہتھیارکا وار روک لیتی ہے اور جیسے پانی لگی پیاس بجھادیتا ہے یعنی ڈھال اور پانی ان کے اسباب ہیں ایسے ہی دعا آئی ہوئی بلا کا وار روک لیتی ہے اور لگی آگ بجھادیتی ہے،اسباب بھی رب تعالٰی کی طرف سے ہیں اور مسببات بھی، رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَلْیَاۡخُذُوۡا حِذْرَہُمْ وَاَسْلِحَتَہُمْ"جنگ میں اپنا بچاؤ اور ہتھیار لے کر جاؤ لہذا دنیا میں بھی انسان دعاؤں کا بچاؤ اور نیک اعمال کے ہتھیار لے کر رہے،ورنہ آفات کچل دیں گے۔

2236 -[14]

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْعُو بِدُعَاءٍ إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهُ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رحم» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتےہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جوشخص کوئی دعا مانگے تو ضرور اﷲ تعالٰی اس کی منہ مانگی مراد دیتا ہے یا اس جیسی کوئی آفت دور کردیتا ہے ۱؎ جب تک کہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کر ے ۲؎ (ترمذی)

۱؎  یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے کہ"ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ"مجھ سے دعا کرو میں تمہاری قبول کروں گا اس حدیث نے بتایا کہ قبولیت دعا کی چند صورتیں ہیں:ایک منہ مانگی مراد مل جانا،دوسرے اس جیسی آفت ٹل جانا،مثلًا کسی کے ہاں سو روپیہ کی چوری ہونی تھی،اس نے اﷲ سے دعا مانگی کہ خدایا مجھے سو روپیہ دے اسے سو روپے تو نہ ملے مگر اتنی چوری ٹل گئی،بہرحال دعا رائیگاں نہ گئی لہذا مانگی مراد نہ ملنے پر دل تنگ نہ ہو بعض مرادیں نہ ملنا ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To