Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

یعنی عرفات کا قیام حج کا رکن اعلیٰ ہے عبادت نام ہے اپنی انتہائی عاجزی رب تعالٰی کی انتہائی عظمت کے اظہار کا دعا میں یہ دونوں چیزیں اعلیٰ طریقہ سے موجود ہیں کہ اس میں بندہ اقرار کرتا ہے کہ میں کچھ نہیں،تو کریم ہے غنی ہے اس لیے میں تیرے دروازہ پر ہاتھ پھیلائے آیا ہوں۔

2232 -[10]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الدُّعَاءِ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اﷲ کے ہاں دعا سے بڑھ کر کوئی چیزگرامی نہیں ۱؎ (ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

۱؎ رب خود فرماتاہے:"قُلْ مَا یَعْبَؤُابِکُمْ رَبِّیۡ لَوْلَا دُعَآؤُکُمْ"اگر تمہاری دعائیں نہ ہوں تو رب تعالٰی تمہاری پرواہ بھی نہ کرے معلوم ہوا کہ اگر ہماری بارگاہ الٰہی میں کچھ قدر و منزلت ہے تو دعاؤں کی برکت سے ہے،دعا میں ساری عبادات بھی شامل ہیں کہ وہ بھی بالواسطہ دعائیں ہیں لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ"کہ دعا بھی تقویٰ کا رکن ہے۔

2233 -[11]

وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلَّا الدُّعَاءُ وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے قضاء کو دعا کے سواء کوئی چیز نہیں لوٹاتی ۱؎ اور نیک سلوک کے سواء کوئی چیز عمر نہیں بڑھاتی ۲؎ (ترمذی)

۱؎ یعنی دعا کی برکت سے آتی بلا ٹل جاتی ہے دعائے درویشاں رد بلا،قضاء سے مراد تقدیر معلق ہے یا معلق مشابہ با لمبرم کہ ان دونوں میں تبدیلی ترمیمی ہوتی رہتی ہے تقدیر مبرم کسی طرح نہیں ٹلتی،لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ فَلَا یَسْتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوۡنَ"۔کہا جاتا ہے کہ بخار آگیا تھا دوا سے اتر گیا دوا نے تقدیر مبرم کو نہیں بدل دیا بلکہ اس کے اثر سے چڑھا ہوا بخار اتر گیا تقدیر میں یہ لکھا تھا کہ اسے بخار آئے گا اگر فلاں دوا کرے تو اتر جائے گا اس کے اور بھی معنے کیے گئے ہیں مگر یہ توجیہ بہتر ہے۔

۲؎ یعنی لوگوں سے خصوصًا ماں باپ اور اہل قرابت سے اچھا سلوک کرنا عمر بڑھا دیتا ہے اس کی بھی وہ صورت ہے جو ابھی عرض کی گئی ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَا یُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّلَا یُنۡقَصُ مِنْ عُمُرِہٖۤ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ"۔معلوم ہوا کہ عمر میں زیادتی کمی ہوتی ہے۔اور فرماتاہے:"یَمْحُوا اللہُ مَا یَشَآءُ وَیُثْبِتُ وَعِنۡدَہٗۤ اُمُّ الْکِتٰبِ"۔معلوم ہوا کہ تقدیر میں محوو اثبات ہوتا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ ایک ہے اﷲ کا علم،ایک ہے اﷲ تعالٰی کے فرشتوں کو اعلام تحریر سے ہو یا بغیر تحریر،ا ن دونوں کا نام تقدیر ہی ہے مگر پہلی تقدیر میں تبدیلی قطعًا ناممکن ہے دوسری تقدیر میں تبدیلی ممکن بلکہ واقع ہے۔اس کی پوری



Total Pages: 441

Go To