Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

حافظ وظیفہ تو دعا کردن است و بس                        دربند آں مباش کہ شنید یا نہ شنید

قبول دعا کی بہت قسمیں ہیں،مدعامل جانا،دعا کی برکت سے کوئی آفت ٹل جانا دعا کا ثواب مل جانا،درجات بلند ہوجانا،جو کچھ ہوجائے ہمارا مدعا حاصل ہے۔

2228 -[6]

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دعوةُ الْمُسْلِمِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتَجَابَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ: آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمان کی اپنے مسلمان بھائی کے لیے اس کی پس پشت دعا ضرور قبول ہے ۱؎ اس کے سر کے پاس فرشتہ مقرر ہوتا ہے ۲؎ کہ وہ جب اپنے بھائی کے لیے دعا خیر کرتا ہے تو مقرر فرشتہ کہتا ہے آمین اور تجھے بھی اس جیسا ملے ۳؎(مسلم)

۱؎ کسی کے سامنے اس کے لیے دعا کر نے میں چاپلوسی،خوشامد،ریاء وغیرہ کا احتمال ہے مگر پس پشت دعا میں یہ کوئی احتمال نہیں،اس میں اخلاص ہی ہوگا اسی لیے پس پشت کی قید لگائی۔اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کی خدمت بہترین عبادت ہے اور اس کی خیر خواہی بہترین عمل۔

۲؎ یہ فرشتہ کوئی اور فرشتہ ہے جس کے ذمہ یہ ہی خدمت کہ ایسی دعاؤں پر آمین کہا کرے،محافظ یا کاتب اعمال فرشتہ نہیں وہ فرشتہ تو داہنے بائیں ہر وقت رہتے ہیں۔

۳؎ یعنی تم مسلمان بھائی کے لیے دعا کرو تو فرشتہ تمہارے لیے دعا کرے گا اگر تم نے فرشتہ کی دعا لینا ہے تو دوسروں کو دعا دو بعض بزرگ جب کوئی دعا کرنا چاہتے ہیں تو پہلے دوسروں کے لیے دعا کرتے ہیں اور اپنے لیے بھی جمع کے صیغہ سے دعا کرتے ہیں،ان عملوں کا ماخذ یہ حدیث ہے یہ عمل بھی ہے کہ پہلے اپنے لیے دعا کر لے پھر دوسرے کے لیے ربّ اغفرلی ولوالدیّ۔

2229 -[7]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَلَا تدْعُوا على أَوْلَادكُم لَا تُوَافِقُوا مِنَ اللَّهِ سَاعَةً يُسْأَلُ فِيهَا عَطَاءً فَيَسْتَجِيبَ لَكُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ: «اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ» . فِي كِتَابِ الزَّكَاة

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ اپنی جانوں پر بددعا کرو اور نہ اپنی اولاد پر اور نہ اپنے مالوں پر ۱؎ ایسا نہ ہو کہ اتفاقًا وہ ایسی گھڑی ہو جس میں اﷲ سے جو مانگا جائے وہ ملے اور تمہاری یہ ہی دعا قبول ہوجائے ۲؎ (مسلم)اور حضرت ابن عباس کی یہ حدیث کہ مظلوم کی بددعا سے بچو کتاب الزکاۃ میں ذکر کی جاچکی۔

۱؎ دعا کے بعد اگر علیٰ آئے تو وہ دعا بمعنی بددعا ہوتی ہے اور اگر لام آئے تو بمعنی دعائے خیر یہاں علیٰ ہے۔مطلب یہ ہے کہ غصّے یا جوش میں اپنی جان،اولاد کو نہ کوسو،مال،جانور،غلام کی ہلاکت کی دعا نہ کربیٹھو۔اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو ان بد دعاؤں کے عادی ہوچکے ہیں،بات بات میں کہتے ہیں،مرجاؤں تو مٹ جائے،تجھے سانپ کانٹے،تجھے گولی لگے۔معاذاﷲ! اور اگر کوئی ایسا حادثہ ہوجائے تو پھر سر پکڑ کر روتے ہیں۔

 



Total Pages: 441

Go To