Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ اس کی شرح پہلے گزر چکی کہ ہر شخص کی آواز اس کے لحاظ سے ہوگی،ایک ہی شخص اپنی آواز بری بھی نکال سکتا ہے اور کچھ اچھی بھی تو قرآن کی تلاوت میں اچھی آواز استعمال کرو یہ مطلب نہیں کہ جس کی آواز اچھی نہ ہو وہ تلاوت قرآن ہی نہ کرے،حضرت بلال اسی موٹی آواز سے ہی اذان و تلاوت کرتے تھے رب تعالٰی کو وہ ہی پیاری تھی کہ وہاں دل کی آواز سنی جاتی ہے۔شعر

گفت ہا تف بازاز بانگ بلال                                    خوش شدے بر عرش رب ذوالجلال

مطلب یہ ہے کہ حتی الامکان خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھوتاکہ سننے والوں کو قرآن کی طرف میلان ہو یہ نہ ہو کہ شعر

گر تو قرآن بدیں نمط خوانی                                          میروی رونق مسلمانی

یا اس اچھی آواز کامطلب وہ ہے جو اگلی حدیث میں آرہا ہے یعنی دور والی آواز جو درد دل کا پتہ دے،خشوع و خضوع ظاہرکرے۔

2209 -[23]

وَعَنْ طَاوُوسٍ مُرْسَلًا قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ أَحْسَنُ صَوْتًا لِلْقُرْآنِ؟ وَأَحْسَنُ قِرَاءَةً؟ قَالَ: «مَنْ إِذَا سَمِعْتَهُ يقْرَأ أَرَأَيْت أَنَّهُ يَخْشَى اللَّهَ» . قَالَ طَاوُوسٌ: وَكَانَ طَلْقٌ كَذَلِك. رَوَاهُ الدَّارمِيّ

روایت ہے حضرت طاؤس سے ارسالًا فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون شخص قرآن میں خوش آواز اور اچھی قرأت والا ہے ۱؎ فرمایا وہ جسے تم جب قرآن پڑھتے سنو تو محسوس کرو کہ وہ اﷲ سے ڈررہا ہے ۲؎ طاؤس فرماتے ہیں کہ طلق ایسے ہی تھے ۳؎(دارمی)

۱؎ سبحان اﷲ! کیا پیارا سوال ہے مقصد یہ ہے کہ لوگ اچھی آواز تو سریلی رسیلی آواز کو سمجھتے ہیں اور نغمہ والی تلاوت کو اچھی تلاوت سمجھتے ہیں،سرکار نے جو اچھی آواز میں تلاوت قرآن کا حکم دیا ہے کیا اس سے بھی یہ ہی مراد ہے یا کچھ اور۔

۲؎ یہ حدیث تمام ان احادیث کی شرح ہے جس میں اچھی آواز،اچھی تلاوت کا حکم دیا گیا یعنی درد دل والی اداء اور خوف خدا والی قرأت اچھی ہے نفس آواز باریک ہو یا موٹی بعض بزرگوں کو دیکھا گیا کہ ان کی آواز موٹی تھی مگر ان کی تلاوت سے خود ان کے اور سننے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے دل کانپ جاتے تھے،اﷲ تعالٰی ایسی تلاوت نصیب کرے۔آمین !

۳؎ یعنی طلق ابن علی ابن عمرو نخعی یمامی اسی طرح تلاوت کرتے تھے کہ خدا یاد آجاتا تھا،آپ قیس ابن طلق یمانی کے والد ہیں مشہور صحابی ہیں حضرت طاؤس نے ان سے ملاقات کی ہے۔

2210 -[24]

وَعَنْ عُبَيْدَةَ الْمُلَيْكِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ لَا تَتَوَسَّدُوا الْقُرْآنَ وَاتْلُوهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ مِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَفْشُوهُ وَتَغَنُّوهُ وَتَدَبَّرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَلَا تَعْجَلُوا ثَوَابَهُ فَإِنَّ لَهُ ثَوَابًا» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت عبیدہ ملیکی سے ان کو جناب مصطفےٰ کی صحبت میسر تھی ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے قرآن والو ۲؎ قرآن کو تکیہ نہ بناؤ ۳؎  اور دن رات اس کی تلاوت کرو جیسا کہ تلاوت کا حق ہے ۴؎  اور قرآن کا اعلان کرو اسے خوش آوازی سے پڑھو اس کے معنے میں غور کرو تاکہ تم کامیاب ہو۵؎ اور اس کا ثواب جلدی نہ مانگو کہ اس کا ثواب بہت ہے۶؎(بیہقی شعب الایمان)

 



Total Pages: 441

Go To