Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2163 -[55]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبِيبٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِي لَيْلَةِ مَطَرٍ وَظُلْمَةٍ شَدِيدَةٍ نَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَكْنَاهُ فَقَالَ:«قُلْ».قُلْتُ مَا أَقُولُ؟ قَالَ:«(قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ)وَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُصْبِحُ وَحِينَ تُمْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن خبیب سے فرماتے ہیں کہ ہم ایک بارشی اور سخت اندھیری رات میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو ڈھونڈنے نکلے ۱؎ تو ہم نے حضور کو پالیا حضور نے فرمایا کہو میں بولا کیا کہوں فرمایا صبح و شام کے وقت"قل ھو اﷲ احد" اور فلق و ناس تین تین بار پڑھ لیا کرو ۲؎ یہ تمہیں ہر چیز سے کافی ہوں گی۳؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی)

۱؎ یعنی ہم حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سفر میں تھے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تو آگے بڑھ گئے ہم لوگ پیچھے رہ گئے تو ہم نے رفتار تیزکردی تاکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے مل جائیں۔چنانچہ ہم اپنے مطلوب ومحبوب تک پہنچ گئے اور اپنے مدعاکو پالیا۔

۲؎ ہمارے سلسلہ میں ایک عمل ہے کہ بعد نماز فجر و مغرب حسب ذیل سورتیں پڑھ لیا کرے سورہ حشر کا آخری رکوع ،اذا زلزلت الارض، قل یاایھاالکفرون ، قل ھو اﷲ احد، تین بار فلق،ناس ہمیشہ اس پر عمل کرے ان شاء اﷲ دنیاوی مصیبتوں سے محفوظ رہے گا اور ایمان پر خاتمہ نصیب ہوگا اور مرتے وقت اپنی جنت کی جگہ خواب میں دیکھ لے گا اور قریب موت اسے خواب میں اطلاع دے دی جائے گی کہ تیرا و قت قریب ہے تیاری کرلے فقیر نے یہ عمل اپنے بزرگوں سے پایا ہے اور بحمدہٖ تعالٰی اس پر عامل ہے اس کے نتائج کی اپنے رب سے امید رکھتاہے اﷲ نصیب کرے۔

۳؎ یعنی تجھ سے ہر آفت کے ٹالنے اور ہر مصیبت کو دفع کرنے میں کافی ہوں گی یا تجھے ہر ورد وظیفے سے غنی کردیں گی کہ ان کے ہوتے تجھے دفع ضرر کے لیے اور کوئی وظیفہ کرنا نہ پڑے گا اس دوسرے معنے کی تفسیر وہ حدیث ہے کہ ان سورتوں سے بہتر کوئی تعویذ نہیں یہ بہترین تعویذ و امان ہے۔

2164 -[56]

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأُ سُورَةَ (هُودٍ)أَوْ سُورَةَ (يُوسُفَ)؟ قَالَ: " لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ)رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ والدارمي

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کیا میں سورہ ہود یا سورۂ یوسف پڑھاکروں ۱؎ فرمایا تم قل اعوذ برب الفلقسے بڑھ کر کوئی ایسی سورت نہیں پڑھ سکتے جو آسان تر اور رب کے نزدیک تمام تر ہو ۲؎(احمد،نسائی،دارمی)

۱؎ اقراء سے ہمزہ استفہامیہ دور کردیا گیا ہے یعنی کیا میں آفات سے بچنے اور مصیبتوں کے دفع کرنے کے لیے سورۂ یوسف و ہود کا ورد رکھوں،لمعات و مرقات۔غرضکہ یہاں تلاوت کی اجازت نہیں چاہ رہے ہیں بلکہ تعوّذ کی اجازت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وردو ظیفوں میں شیخ کی اجازت چاہئیے ورنہ ثواب تو مل جائے گا مگر اثر نہ ہوگا۔یہ حدیث اجازت شیخ کی اصل ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To