Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۵؎ یعنی رمضان کی انتیسویں،ستائیسویں،پچیسویں راتوں میں زیادہ جستجو کرو غالب یہ ہے کہ ان میں سے کسی رات میں ہے۔اس فرمان سے معلوم ہوا کہ اس جھگڑے سے خود شبقدر نہ اٹھی تھی بلکہ اس کا تعین اٹھا ورنہ اس کے تلاش کرنے کے کیا معنی،تلاش وہ چیز کی جاتی ہے جو ہو مگر اس کا پتا نہ ہو۔

2096 -[14]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ نزل جِبْرِيل عَلَيْهِ السَّلَام فِي كُبْكُبَةٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُصَلُّونَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ أَوْ قَاعِدٍ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدِهِمْ يَعْنِي يَوْمَ فِطْرِهِمْ بَاهَى بِهِمْ مَلَائِكَتَهُ فَقَالَ: يَا مَلَائِكَتِي مَا جَزَاءُ أَجِيرٍ وَفَّى عَمَلَهُ؟ قَالُوا: رَبَّنَا جَزَاؤُهُ أَنْ يُوَفَّى أَجْرَهُ. قَالَ: مَلَائِكَتِي عَبِيدِي وَإِمَائِي قَضَوْا فَرِيضَتِي عَلَيْهِمْ ثُمَّ خَرَجُوا يَعُجُّونَ إِلَى الدُّعَاءِ وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَكَرَمِي وَعُلُوِّي وَارْتِفَاعِ مَكَاني لأجيبنهم. فَيَقُول: ارْجعُوا فقد غَفَرْتُ لَكُمْ وَبَدَّلْتُ سَيِّئَاتِكُمْ حَسَنَاتٍ. قَالَ: فَيَرْجِعُونَ مَغْفُورًا لَهُمْ ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شبِ قدر ہوتی ہے تو جبریل علیہ السلام فرشتوں کی جماعت میں اترتے ہیں ۱؎ ہر اس کھڑے بیٹھے بندے کو دعائیں دیتے ہیں جو اﷲ کا ذکر کررہا ہو ۲؎ پھر جب بندوں کی عید کا دن ہوتا ہے تو اﷲ ان بندوں سے اپنے فرشتوں پر فخر فرماتا ہے ۳؎ فرماتا ہے اے میرے فرشتوں اس مزدور کی اجرت کیا ہونی چاہیے جو اپنا کام پورا کردے ۴؎ عرض کرتے ہیں الٰہی اس کی اجرت یہ ہے کہ اسے پورا ثواب دیا جائے ۵؎ فرماتا ہے اے فرشتوں میرے بندے بندیوں نے میرا فریضہ پورا کردیا جوان پر تھا پھردعا ئیں شور مچاتے نکل پڑے ۶؎ مجھے اپنی عزت و جلال اپنے کرم اپنی بلندی اپنے غلبہ مرتبہ کی قسم میں ان کی دعا قبول کروں گا۷؎ پھر فرماتا ہے لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا ۸؎ اور تمہاری برائیوں کو خوبیا ں بنادیا ۹؎ فرمایا پھر یہ لوگ بخشے ہوئے لوٹتے ہیں ۱۰؎  (بیہقی شعب الایمان)

۱؎ یہ حدیث اس آیت کریمہ کی تفسیر ہے کہ"تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ فِیۡہَا"۔اس سے پتہ لگا کہ وہاں روح سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں اور ملائکہ سے مراد فرشتوں کی وہ جماعت ہے جو ان کے ساتھ اترتی ہے،یہ جماعت سوائے شبِ قدر کے اور کبھی نہیں اترتی بعض بزرگوں نے کبھی اس جماعت کو دیکھابھی ہے روح کی تفسیریں اور بہت ہیں مگر قوی یہ ہی ہے کہ وہ حضرت جبریل ہیں۔

 ۲؎ اس تعلیم سے معلوم ہوا کہ شبِ قدر میں صرف نماز ہی پڑھنا لازم نہیں بلکہ نماز،تلاوت قرآن اورتمام قسم کے ذکر اﷲ کئے جائیں پھر نماز نفل کھڑے ہو کر پڑھی جائے یا بیٹھ کر ہر طرح فرشتوں کی دعائیں مل جاتی ہیں۔

۳؎ فرماتاہے اے فرشتو تم نے تو کہا تھا کہ خلافت الہیہ انسان کو کیوں عطا ہورہی ہے یہ تو خون ریزی کرے گا فساد پھیلائے گا دیکھو انسانوں میں ایسے عابدبھی ہیں جو دن کو روزے رکھ کر راتوں کو اس طرح جاگ لیتے ہیں اور ایسی عبادتیں کرلیتے ہیں جو کسی مخلوق سے نہ ہوسکے۔خیال رہے کہ روزہ جہاد اشاعت دین شہادت وغیرہ وہ عبادتیں ہیں جو صرف انسان ہی کر سکتا ہے فرشتوں سے بھی نہیں ہوسکتیں رکوع سجدہ تو عبادات مشترکہ ہیں مگر یہ عبادات انسان سے خاص ہیں اسی لیے رب تعالٰی نے فرمایا:"وَحَمَلَہَا الْاِنۡسٰنُ"جنات سفر حج اور جہاد کی مشقتوں کو کیا جانیں۔

 



Total Pages: 441

Go To