Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2093 -[11]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ: «هِيَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَقَالَ:رَوَاهُ سُفْيَان وَشعْبَة عَن أبي إِسْحَق مَوْقُوفا على ابْن عمر

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا وہ ہر رمضان میں ہوتی ہے ۱؎ (ابوداؤد)اور ابوداؤد نے کہا کہ یہ حدیث سفیان و شعبہ نے ابو اسحاق سے حضرت ابن عمر پرموقوف روایت کی۔

۱؎ اس جواب کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ ہمیشہ شبِ قدر رمضان میں ہوگی اس کے علاوہ دوسرے مہینہ میں نہیں ہوگی نہ تو یہ ہوگا کہ کوئی سال شب قدر سے بالکل خالی رہے کہ کسی مہینہ میں شبقدر نہ ہو اور نہ یہ کہ رمضان کے سواءکسی اور مہینہ میں ہو جاوے۔دوسرے یہ کہ رمضان کے ہر حصہ میں شب قدر ہوسکتی ہے آخری عشرہ سے خاص نہیں،کبھی شروع تاریخوں میں ہوگی،کبھی درمیانی میں اور کبھی آخری تاریخوں میں۔یہ حدیث ان علماء کی دلیل ہے جوکہتے ہیں کہ ہمیشہ شبقدر رمضان ہی میں ہوگی مگر تاریخ مقرر نہیں کبھی کسی تاریخ میں اور کبھی کسی میں۔واﷲ ورسولہ اعلم!

2094 -[12]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي بَادِيَةً أَكُونُ فِيهَا وَأَنا أُصَلِّي فِيهَا بِحَمْد الله فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُهَا إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ فَقَالَ: «انْزِلْ لَيْلَة ثَلَاث وَعشْرين».قيل لِابْنِهِ: كَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ فَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ لِحَاجَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ فَإِذَا صَلَّى الصُّبْحَ وَجَدَ دَابَّتَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ عَلَيْهَا وَلحق بباديته. رَوَاهُ أَبُو دَاوُ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن انیس سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ میرا ایک جنگل ہے جس میں میں رہتا ہوں ۱؎  اور الحمدﷲ وہاں ہی نمازیں پڑھتا ہوں ۲؎ مجھے ایک رات بتادیجئے جس میں میں اس مسجد میں آیا کروں۳؎  فرمایا تئیسویں رات آجایا کرو۴؎  ان کے بیٹے سے پوچھا گیا کہ آپ کے والد کیا کرتے تھے فرمایا جب عصر پڑھ لیتے تو مسجد نبوی میں چلے جاتے ۵؎ پھرکسی کام کے لیے نہ نکلتے حتی کہ نماز فجر پڑھ لیتے ۶؎ جب فجر پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے اس پر سوار ہوکر اپنے جنگل چلے جاتے ۷؎ (ابوداؤد)۸؎

۱؎ یعنی میرا مکان مدینہ منورہ سے دور اپنی زمین میں واقع ہے جہاں میرا کنواں باغ وغیرہ ہے وہاں ہی میرے جانور رہتے ہیں اور وہاں ہی میرے بال بچے۔عرب میں یہ بات عام مروج تھی کہ باغوں زمینوں والے اپنی زمینوں میں رہتے تھے۔

۲؎  اس طرح کہ اس زمین میں میں نے مسجد بنالی ہے جہاں ہم سب گھر والے باجماعت نمازیں پڑھ لیا کرتے ہیں،راہگیر مسافربھی وہاں نمازیں پڑھتے ہیں جیساکہ پنجاب میں کنوؤں کی مسجدوں میں ہوتا ہے لہذا ان صحابی پر ترک جماعت کا اعتراض نہیں ہوسکتا۔

۳؎ یعنی مسجد نبوی شریف میں حاضر ہوجایا کروں رات بھر نوافل پڑھنے کے لیے یعنی شبِ قدر بتادیں تاکہ زمان اور مکان دونوں کی برکتیں حاصل کرلیا کروں،شبِ قدر ہو مسجد نبوی کی زمین پاک ہو اور میری جبین نیاز ہو اس طرح نوافل ادا کیا کروں  رب  تعالٰی کبھی ہم کو بھی یہ سعادت میسر کرے ۔

۴؎  یعنی  تیئسویں رمضان کی رات یہاں آکر  شب بیداری اور نوافل ادا کیا کرو کہ یہ رات شبِ قدر ہے،یہ حدیث ان بزرگوں کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ تئیسویں رمضان شبِ قدر ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضو انورصلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر کا علم دیا گیا۔

۵؎ یعنی میرے والد بائیسویں رمضان کی عصر پڑھ کر مسجد نبوی میں داخل ہوجاتے تھے.ظاہر یہ ہے کہ نماز عصر اپنے گھر پڑھ کر آتے تھے اور ہوسکتا ہے کہ نماز عصر یہاں مسجد نبوی شریف میں ہی پڑھتے ہوں،تب داخلہ سے مراد ٹھہرنے کا داخلہ ہوگا،اس طرح کہ یہاں عصر پڑھی پھر ضروریات سے فارغ ہوئے پھر رات بھر قیام کے ارادے سے مسجد میں آگئے۔

۶؎  ظاہر یہ ہے کہ حاجت سے مراد مطلق ضرورت ہے تو آپ تمام ضروریات انسانی سے ایسے فارغ ہوکر مسجد میں داخل ہوتے تھے کہ پھر وضو کے لیے بھی باہر نہ آتے تھے وضو ٹوٹتا ہی نہ تھا اس جملہ کی اور بہت شرحیں کی گئی ہیں مگر یہ شرح بہت ہی مناسب



Total Pages: 441

Go To