Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

ثابت ہے اور صغریٰ ان کے اجتہاد سے لہذا دلیل اجتہادی ہوئی۔اشعۃ اللمعات میں اس جگہ فرمایا کہ ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ سے شبِ قدر کے متعلق پوچھا تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ رمضان کے آخری عشر کی ساتویں رات ہے خواہ سات باقی ہوں یا سات گزر گئی ہوں یعنی تئیسویں یا ستائیسویں شب،جناب عمر نے پوچھا دلیل کیا ہے آپ نے فرمایا کہ رب تعالٰی نے آسمان بنائے سات،زمین سات،ہفتہ کے دن سات،انسان کی پیدائش سات اندام سے،نیز انسان کھاتا ہے سات اعضاء سے،سجدہ کرتا ہے سات اعضاء پر،طواف میں سات چکر ہیں،رمی جمار میں سات کنکر ہی مارے جاتے ہیں لہذا شب قدر بھی سات کا ہی عدد چاہئیے حضرت عمر نے فرمایا اب ابن عباس تم نے وہ ہی چیز جان لی جو ہمارے علم میں بھی ہے۔

2089 -[7]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيره. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اس قدر مشقت فرماتے تھے جو دیگر ایام میں نہ کرتے تھے ۱؎(مسلم)

۱؎ چنانچہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بھی کرتے تھے اور عمومًا شب بیداری بھی یا تو اس لیے کہ اس عشرہ میں شب قدر ہے یا ا س لیے کہ مہمان جارہا ہے الوداع سامنے ہے جو اوقات مل جائیں غنیمت ہے یا اس لیے کہ مہینہ کا خاتمہ زیادہ عبادتوں پر ہو۔بزرگوں کو دیکھا گیا ہے کہ بڑھاپے میں دنیا سے کنارہ کرکے عبادت زیادہ کرتے ہیں کہ اب چلتا وقت ہے جو ہوسکے کرلیں۔شعر

اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہوسکے کرلے                 اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے

2090 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَأَحْيَا ليله وَأَيْقَظَ أَهله

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ جب آخری عشرہ آتا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کمر بستر ہوجاتے ۱؎ راتوں کو خود جاگتے اور گھر والوں کو جگاتے ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  میزر  ازار سے بنا،بمعنی تہبند یا پائجامہ،لفظی معنے ہوئے اپنا تہبند باندھ لیتے۔ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد ہے شاق کاموں کے لیے تیار ہوجاتے جیسے کہا جاتا ہے اٹھ باندھ کمر کیا بیٹھا ہے اور ہوسکتاہے کہ مقصد یہ ہو کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانہ میں ازواج پاک سے قطعًا علیحدہ رہتے اعتکاف کی وجہ سے بھی اور زیادہ عبادتوں میں مشغولیت کے سبب سے بھی۔

۲؎ یعنی اس عشرہ کی راتوں میں قریبًا تمام رات جاگتے تھے تلاوت قرآن ،نوافل،ذکر اﷲ میں راتیں گزارتے تھے اور ازواج پاک کو بھی اس کا حکم دیتے تھے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضور انور نے تمام رات بیداری و عبادت کبھی نہ کیں۔خیال رہے کہ یہاں احیاءٌ سے مراد ہے عبادت کے لیے جاگنا اور لیلہ اس کا ظرف ہے یعنی رات بھر عبادت کے لیے جاگتے،ہوسکتا ہے کہ لیلہ مفعول بہ ہو یعنی رات کے اوقات کو اپنی عبادت سے زندہ کردیتے یا زندہ رکھتے جو وقت اﷲ کی یاد میں گزرے وہ زندہ ہے جو غفلت میں گزرے وہ مردہ۔جامع صغیر میں ہے کہ جو عشاء کی نماز جماعت سے پڑھے اس نے گویا شب قدر میں عبادت کی،طبرانی نے بروایت حضرت ابو امامہ روایت کی کہ جو نماز عشاء جماعت سے پڑھے وہ گویا آدھی رات عبادت گزار رہا اور جو فجر بھی جماعت سے پڑھ لے تو گویا وہ تمام رات عابد رہا۔

 



Total Pages: 441

Go To