Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۴؎ چونکہ اس عشرہ کی ہر رات میں شبِ قدر ہونے کا حتمال تھا اس لیے یہاں اواخر جمع ارشاد ہوا۔(مرقات)یعنی بیسویں تاریخ کو فرشتہ نےآ کر عرض کیا کہ شبِ قدر اگلے عشرہ میں ہے رب تعالٰی چاہتا تھا کہ محبوب کا سارا مہینہ اعتکاف میں گزرے اس لیے پہلے اطلاع نہ دی۔

 ۵؎ تاکہ اس کی یہ محنت رائیگاں نہ جائے اور شبِ قدر کی تلاش میں کامیاب ہوجائے۔اس جملے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شبِ قدر رمضان میں ہے اور آخری عشرہ میں ہے۔

۶؎  مرقات نے یہاں فرمایا کہ غالبًا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر کی خصوصی علامت بتائی گئی تھی پھر وہ بھلا دی گئی تاکہ امت اس کی تلاش میں کوشش کرے اور ثواب پائے،معین رات صراحۃً نہ بتائی گئی تھی کہ اس کا بھول جانا کچھ بعید ازعقل ہے۔خیال رہے کہ جو چیز ضروریات دین سے نہ ہو پیغمبر اسے بھول سکتے ہیں اور اس بھول میں اﷲ کی بہت حکمتیں ہیں،یہ بھی خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر وغیرہ تمام چیزوں کا تفصیلی علم عطا ہوا،خود فرماتے ہیں:"فتجلی لی کل شیئ و عرفت"ہر چیز میں شب قدر بھی یقینًا داخل ہے بھلا دی گئی فرماکر یہ بتایا کہ یہ بھولنا ہماری اپنی کوتاہی سے نہیں ہوا بلکہ رب تعالٰی کی طرف سے ہوا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَلَا تَنۡسٰۤی اِلَّا مَا شَآءَ اللہُ

۷؎  یعنی میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ اس سال شبِ قدر میں بارش ہوگی،مسجد نبوی شریف ٹپکے گی جس سے مسجد میں کیچڑ ہوجائے اور ہم اس کیچڑ میں نماز فجر ادا کریں گے،یہ مطلب نہیں کہ ہر سال شبِ قدر میں بارش ہوا کرے گی اور ہم کیچڑمیں فجر پڑھا کریں گے۔

۸؎  معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر بالکل نہ بھلائی گئی تھی بلکہ اس کا تقرروتعین بھلا دیا گیا تھا اس لیے فرمایاکہ شبِ قدر آخری عشرہ رمضان کی طاق تاریخوں تئیسویں،پچیسویں وغیرہ میں ہےڈھونڈو۔

۹؎  کہ بجائے ستونوں کے کھجور کے تنے تھے اور بجائے کڑیوں کے کھجور کی شاخیں تھیں جن پر کھجور کے پتے ڈال دیئے گئے تھے دھوپ بھی چھن کر آتی تھی اور بارش بھی اسی لیے تھوڑی بارش سے مسجد میں کیچڑ ہو جاتی تھی۔

۱۰؎ تب ہمیں پتہ لگا کہ آج اکیسویں شب کو لیلۃ القدر ہوگئی۔اس حدیث کی وجہ سے بعض علماء فرماتے ہیں کہ شب قدر اکیسویں رمضان میں ہے،بعض نے فرمایا کہ اس سال اکیسویں شب تھی ہمیشہ نہیں۔ہم عرض کر چکے ہیں کہ دلائل ہر رات کے متعلق موجود ہیں مگر ستائیسویں شب کے دلائل ہی قوی اور زیادہ ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سجدہ میں پیشانی زمین پر ضرور لگائے اگرچہ فرش پر معمولی کیچڑ ہو اور نماز میں پیشانی وغیرہ پونچھے نہیں مٹی کیچڑ لگنے دے،ہاں بعد نماز پونچھ ڈالے کہ یہ عبادت کا اثر ہے جس کے اظہار میں ریاء کا اندیشہ ہے۔

2087 -[5]

وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: «لَيْلَة ثَلَاث وَعشْرين» . رَوَاهُ مُسلم

اور عبداﷲ ابن انیس کی روایت میں ہے کہ فرمایا کہ وہ تئیسویں رات ہے ۱؎

۱؎ اس جملہ میں لَیْلَۃٌ کو یا تو زبر ہے تو معنے ہوئے کہ بارش وغیرہ کا یہ واقعہ تئیسویں رمضان کی شب میں ہوا تب راویوں کی یاد میں اختلاف ہے،حضرت ابو سعید خدری کو یاد رہا کہ اکیسویں شب کو بارش ہوئی اور حضرت عبداﷲ ابن انیس کو تئیسویں شب یاد



Total Pages: 441

Go To