Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

کرنا ہے۔حق یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر کا علم دیا مگر اس کے اظہار کی اجازت نہ دی۔اسمِ اعظم کی طرح عوام سے اسے چھپا رکھا تاکہ اس کی تلاش رہے اور اچھی چیز کی تلاش بھی عبادت ہے لہذا یہ چھپانا ہمارے لیے بہتر ہے۔

2084 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن ابْن عمر قَالَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِر»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کو  شب قدر خواب  میں دکھائی  گئی  کہ  رمضان  کے  آخری  ہفتہ  میں  ہے  ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خوابیں  آخری ہفتہ پر متفق ہوگئیں۲؎ ہیں تو  جو شب قدر تلاش کرے وہ  آخری ہفتہ میں تلاش کرے۳؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یہ ترجمہ بہت احتیاط سے کیا گیا ہے۔مطلب یہ ہے کہ کسی صحابی نے خواب دیکھا کہ وہ رمضان کی اکیسویں شب ہے،کسی نے دیکھا کہ تئیسویں ہے،کسی نے پچسویں اور کسی نے ستائیسوں یا انتیسویں کہا ہے یعنی آخری عشرہ کی طاق راتیں،چونکہ ان میں اکثر راتیں آخری ہفتہ میں ہیں یعنی تئیسویں سے انتیسویں تک اس لیے آخری ہفتہ ارشاد ہوا۔اس جملہ کی شرح میں شارحین کو بہت دشواری ہوئی ہے،فقیر نے جو عرض کیا وہ زیادہ قرین ہے۔واﷲ ورسولہ اعلم!

۲؎ یعنی اے صحابہ تمہاری خوابیں شخصی تعیین میں تو مختلف ہیں مگر نوعی تعیین میں متفق ہیں کہ ہرشخص نے اسے رمضان کے آخری ہفتہ میں دیکھا۔

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ مؤمن کا خواب معتبر ہے خصوصًا جب کہ نبی کی تصدیق بھی ہوجائے،دیکھو اذان خواب ہی میں صحابہ نے دیکھی تھی جو آج تک اسلام میں جاری ہے بلکہ اسلام کا شعار ہے،ایسے ہی یہ بھی ہے لہذا اکیسویں،تیسویں،پچیسویں،ستائیسویں، انتیسویں میں اس کی تلاش کی جائے۔اس کی تفصیل اگلی حدیث میں آرہی ہے۔

2085 -[3]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ: فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى فِي سَابِعَةٍ تَبْقَى فِي خَامِسَةٍ تَبْقَى.رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو جب نو دن باقی رہیں سات دن باقی رہیں پانچ دن باقی رہیں ان میں ۱؎(بخاری)

۱؎ عرب میں دستور ہے کہ ابتدائی مہینہ میں تاریخوں کا اعتبار شروع مہینہ سے کرتے ہیں یعنی پانچویں تاریخ وہ جس سے پہلے چار تاریخیں گزر گئی ہوں،آٹھویں وہ جس سے پہلے مہینہ کے سات دن گزر چکے ہوں مگر مہینہ کے انتہا میں آخر کی طرف سے حساب لگاتے ہیں اس طرح کہ نویں تاریخ وہ جس کے بعد مہینہ کے نو دن باقی ہوں یعنی اکیسویں،ساتویں تاریخ وہ جس کے بعد مہینہ کے سات دن باقی ہوں یعنی تیسویں اور اس کے ساتھ لفظ تَبْقیٰ بول دیتے ہیں یعنی اس کے بعد اتنے روز باقی ہیں اسی محاورے سے یہ فرمان عالی ہے تو مطلب یہ ہوا کہ شبِ قدر رمضان کی اکیسویں،تیسویں،پچیسویں وغیرہ میں تلاش کرو۔شارحین نے اس جملے کے



Total Pages: 441

Go To