Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

رشوتیں ہیں،ہاں جن لوگوں کے ساتھ اس کا پہلے ہی سے لین دین ہو اور اس کے معزول ہونے کے بعدبھی وہی لین دین رہے وہ رشوت نہیں جیسے عزیزوں اور قدیمی احباب سے نیوتے بھاجی وغیرہ،ان مسائل کی اصل یہ حدیث ہے۔

۵؎یعنی جو عامل زکوۃ میں چوری یا خیانت کرے یا زکوۃ دینے والوں سے رشوت وصول کرے۔غرضکہ بالواسطہ یا بلا واسطہ جس طرح بھی خفیۃً یا علانیۃً کچھ لے،لفظ منہ ان سب کو شامل ہے۔(مرقات)غرضکہ یہاں زکوۃ کی چوری ہی مراد نہیں کیونکہ ان صاحب نے کوئی چوری نہ کی تھی۔خیال رہے کہ یہاں توگردن کے اٹھانے کا ذکر ہے مگر قرآن شریف میں پیٹھوں پر لادنے کا کہ ارشاد ہوا "وَہُمْ یَحْمِلُوۡنَ اَوْزَارَہُمْ عَلٰی ظُہُوۡرِہِمْ"کیونکہ آیت میں کفار کا ذکر ہے اور یہاں گنہگارمسلمان کا،چونکہ کفار کے گناہ زیادہ اور بھاری ہوں گے اس لیے وہ پیٹھوں پر لادیں گے اورمسلمان گنہگار کے گناہ ان سے کم اور ہلکے ہوں گے اس لیے گردن پر اٹھائیں گے،یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پیٹھ کی انتہا گردن ہے لہذا گردن پر اٹھانا گویا پیٹھ پر ہی اٹھانا ہے مگر پہلی بات زیادہ قوی ہے۔

۶؎ یعنی اگر خیانۃً یا رشوۃً اونٹ،گائے،بکری یا کوئی اور جانور بھی لیا ہوگا تو اسے بھی اپنی گردن پر اٹھائے پھرے گا وہ بوجھ سے دبے گا بھی اوران آوازوں کی وجہ سے سارے محشر میں بدنام بھی ہوگا۔معلوم ہوا کہ نیکیوں پر قیامت میں انسان سوار ہوگا اور بدیاں انسان پرسوارہوں گی۔خیال رہے کہ اﷲ تعالٰی قیامت میں مسلمانوں کے خفیہ گناہ نہ کھولے گا ستاری فرمائے گا مگر جو بے غیرت دنیا میں علانیہ گناہ کریں اور ان پر فخربھی کریں وہ ضرورکھلیں گے لہذا یہ حدیث عیب پوشی کی احادیث کے خلاف نہیں۔

۷؎ سبحان اﷲ! کیا پاکیزہ عرض ومعروض ہے رب تعالٰی سے کہہ رہے ہیں بندوں کو سنا رہے ہیں کہ میں اپنے فرض تبلیغ سے فارغ ہوچکا،اب کسی مجرم کو یہ عذر نہ ہوگا کہ مجھے خبر نہ تھی تاقیامت ہرمسلمان پر بقدر ضرورت دینی مسائل سیکھنا فرض ہے،اب اگر کوئی خود نہ سیکھے اور بےخبر رہے تو اس کا اپنا قصور ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوتاہی نہیں۔

۸؎  یعنی جو کام بذات خود تو اچھا ہے مگر اس کے ذریعہ سے  حرام کا ارتکاب کیاجائے تو یہ اچھا کام بھی حرام ہوجائے گا  کیونکہ عامل بن کر جانا یا حاکم بننا اچھا کام ہے  لیکن اگر رشوتیں لینے کے لیے کیا جائے تو حرام ہوگا جیسےکسی غریب کو قرض دینا نیکی ہے یا ضرورۃ ً کسی مقروض کی کوئی چیز رہن(گروی)رکھ لینا بھلائی ہے لیکن اگر قرض پر سود لیا جائے اور گروی مکان سے نفع لیا جائے تو یہ قرض بھی حرام ہوجائے گا۔

۹؎ یعنی جو عقد علیحدہ رہ کر حرام ہوگا وہ حلال سے مل کربھی حرام ہوگا اور جو علیحدہ ہوکر حلال ہوگا وہ حلال سے مل کر بھی حلال رہے گا۔یہ قاعدہ ان لوگوں کے نزدیک ہے جو شرعی حیلے ناجائز کہتے ہیں مگر ہمارے ہاں ضرورۃً شرعی حیلے جائز ہیں لہذا ہمارے ہاں یہ قاعدہ کلیہ نہیں،ہماری دلیل وہ حدیث ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ردّی کھجوریں زیادہ دے کر کھری کھجوریں کم لیں تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ سود ہوگیا تمہیں چاہیئے  تھا کہ یہ ردّی کھجوریں روپے کے عوض بیچتے پھر اسی روپے کے عوض خریدار سے کھری کھجوریں لے لیتے،دیکھو حرام سے بچنے کا یہ حیلہ ہے۔غرضکہ ناجائز عقد جائز عقد سے مل کر کبھی تو خود جائز بن جاتاہے اور کبھی جائزکردیتا ہے،یہ قاعدہ خوب یاد رکھا جائے۔ناپاک پانی پاک پانی میں مل کر کبھی خود پاک ہوجاتا ہے جیسے تالاب میں ڈالا جائے اور کبھی اسے بھی ناپاک کردیتا ہے جیسے کنوئیں میں۔

1780 -[9]

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُم على عمر فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ كَانَ غُلُولًا يَأْتِي بِهِ يَوْم الْقِيَامَة».رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عدی ابن عمیرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہم تم میں سے جسےکسی کام پر عامل بنائیں پھر وہ ہم سے سوئی یا اس سے زیادہ چھپالے تو یہ بھی خیانت ہے جسے وہ قیامت کے دن لائے گا ۱؎ (مسلم)

 



Total Pages: 441

Go To