We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۵؎ اس جملہ کی تکرار تاکید بلکہ تغلیظ کے لیے ہے یعنی یہ لوگ یقینًا سخت گنہگار ہیں دو وجہ سے:(۱)ایک یہ کہ میری موجودگی میں انہیں اجتہاد نہ کرنا چاہیے تھا بلکہ براہ راست مجھ سے مسئلہ پوچھ لینا چاہیے تھاکیونکہ اجتہاد حدیث نہ مل سکنے پر ہوتا ہے۔ (۲)دوسرے یہ کہ آج سے روزہ نہ رکھنا میری سنت ہوچکا تھا لہذا ان کا روزہ رکھنا خلاف سنت ہوا اور سنت کی مخالفت یقینًا گناہ ہے۔فقیر کی اس تقریر سے یہ اعتراض بھی اٹھ گیا کہ صحابہ کرام تو فسق سے پاک ہیں پھر وہ حضرات یہ گناہ کیسے کر بیٹھےکیونکہ ان بزرگوں نے نہ تو گناہ کی نیت سے یہ کام کیا تھا نہ بعد میں اس پر قائم رہے اور فسق کے لیے دونوں چیزیں ضروری ہیں اور یہ اعتراض بھی اٹھ گیا کہ خطائے اجتہادی پر پکڑ نہیں اور نہ وہ گناہ ہے پھر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گنہگار کیوں فرمایا کیونکہ سرکار نے اپنی موجودگی میں ان کے اجتہاد کو گناہ قرار دیا کہ انہیں مجھ سے پوچھنا چاہئیے تھا،یہ اعتراض بھی اٹھ گیا کہ سفر میں روزہ رکھنا جائز ہے اس پر وہ حضرات گنہگار کیوں ہوگئے کیونکہ اس وقت سے افطار کرنا سنت ہوچکا تھا اور سنت کی مخالفت یقینًا گناہ ہے۔خیال رہے کہ عدم سنت اور ہے اور مخالفت سنت کچھ اور اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ روزہ نماز بذات خود ثواب کا باعث نہیں بلکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ثواب کا باعث ہے۔جو عبادت ان کی اتباع سے خالی ہوجائے وہ گناہ بن جاتی ہے،عید کے دن کا روزہ ،سورج نکلتے ڈوبتے نماز پڑھنا منع ہے ایسے ہی اب ان کے لیے روزہ گناہ ہوگیا۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کر جانے پر مکہ معظمہ میں رہنا گناہ ہوگیا تھا۔

2028 -[10]

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَائِمُ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن عوف سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سفر میں رمضان کے روزے رکھنے والا ایسا ہے جیسے گھر میں افطار کرنے والا ۱؎(ابن ماجہ)

۱؎ یہاں اَلسَّفَر میں الف لام عہدی ہے اور اس سے وہ سفر مراد ہے جس میں روزہ ہلاکت یا سخت تکلیف کا باعث ہو یا وہ سفر جہاد مراد ہے جس میں روزہ دار بجائے جہاد کرنے کے دوسرے غازیوں پر بوجھ بن جائے لہذا یہ حدیث سفر میں روزہ رکھنے کی احادیث کے خلاف نہیں یعنی ایسا مسافر سفر میں روزہ رکھنے سے ایسا ہی گنہگار ہوگا جیسے غیر مسافر گھر میں رہ کر بلاعذر روزہ نہ رکھنے پر گنہگار ہوتا ہے۔

2029 -[11]

وَعَن حَمْزَة بن عَمْرو السّلمِيّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ قَالَ: «هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت حمزہ ابن عمرو اسلمی سے انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے اندر سفر میں روزہ کی طاقت رکھتا ہوں تو کیا مجھ پر گناہ ہے فرمایا وہ تو اﷲ عزوجل کی طرف سے رخصت ہے جو اسے قبول کرے تو اچھا ہے اور جو روزہ رکھنا پسند کرے تو اس پر گناہ نہیں  ۱؎(مسلم)

۱؎ یہ حدیث گزشتہ احادیث کی تفسیر ہے کہ سفر میں روزہ رکھنے کی بھی اجازت ہے اور نہ رکھنے کی بھی۔یہاں ایک اعتراض ہے وہ یہ کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مسافر کو روزہ نہ رکھنا بہتر،رکھنا خلاف اولیٰ کیونکہ سرکار نے نہ رکھنے کو حسن فرمایا اور رکھنے کو لَا



Total Pages: 441

Go To