Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم محرم بھی تھے اور روزہ دار بھی،اس حال میں پچھنے لگوائے فصدلی جیساکہ بعض شارحین نے سمجھا بلکہ دونوں واقعہ الگ الگ ہیں یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت احرا م بھی فصدلی ہے اور بحالت روزہ بھی۔معلوم ہوا کہ فصد سے نہ احرام خراب ہو نہ روزہ فاسد مگر احرام میں ضروری یہ ہے کہ بال نہ اکھڑے ورنہ کفارہ واجب ہوگا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فصد نہ تو روزہ توڑتی ہے اور نہ اس سے روزہ مکروہ ہوتا ہے،یہ ہی اما اعظم ابوحنیفہ کا فرمان ہے،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے فصد کرنے والا اور کرانے والا دونوں کا روزہ باقی رہتاہے ٹوٹتا نہیں۔امام احمد کے ہاں حاجم و محجوم دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے مگر ان پر کفارہ نہیں صرف قضا ہے،یہ حدیث ان کے خلاف ہے ان کی دلیل دوسری حدیث ہے جس کے متعلق اس کی شرح میں ان شاءاﷲ عرض کیا جائے گا۔

2003 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من نسي وَهُوَ صَائِم فأل أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وسقاه»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بحالت روزہ بھول جائے کھاپی لے وہ اپنا روزہ پورا کرے ۱؎ کہ اسے رب تعالٰی نے کھلایا پلایا ہے ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یہ حکم فرض و نفل تمام روزوں کے لیے ہے کہ ان میں بھول کر کھا پی لینے سے روزہ نہیں جاتا۔بھول یہ ہے کہ روزہ یاد نہ رہے اور کھانا پینا ارادۃً ہو اس میں نہ قضا ہے نہ کفارہ۔خطا یہ ہے کہ روزہ یاد ہو مگر بغیر ارادہ پانی حلق سے اتر جائے جیسے کلی یا غرارہ کرتے وقت اس میں قضا ہےکفارہ نہیں۔عمد یہ ہے کہ روزہ بھی یاد ہو کھانا پینا بھی ارادۃً ہو اس میں قضا بھی ہے کفارہ بھی،جماع بھی کھانے پینے کے حکم میں ہے لہذا اگر روزہ دار بھول کر صحبت کرلے تو بھی روزہ نہیں جائے گا،یہ ہی احناف کا مذہب ہے۔ فلیتم امر سے معلوم ہوتا ہے کہ نفلی روزہ شروع کردینے سے فرض ہوجاتا ہے اس کا پورا کرنا فرض ہے۔

۲؎ یعنی یہ بھول رب تعالٰی کی رحمت ہے،اس نےچاہا کہ میرا بندہ کھا پی بھی لے اور اس کا روزہ بھی ہوجائے۔ خیال رہے کہ ہماری بھول چوک غفلت و کمزوری کی بنا پر ہوتی ہے مگر اس پر معافی دینا رب تعالٰی کی طرف سے ہے لہذا حدیث پر یہ ا عتراض نہیں کہ بھول تو شیطانی اثر سے ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ مَاۤ اَنۡسٰنِیۡہُ اِلَّا الشَّیۡطٰنُ"پھر اسے رب کی طرف منسوب کیوں فرمایا۔

2004 -[6] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُول الله هَلَكت. قَالَ: «مَالك؟» قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ.فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟» . قَالَ: لَا قَالَ: «فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «هَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «اجْلِسْ» وَ مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَبينا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟» قَالَ: أَنَا. قَالَ: «خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ» . فَقَالَ الرَّجُلُ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ أَهْلُ بَيْتِ أَفْقَرُ م أَهْلِ بَيْتِي. فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ: «أَطْعِمْهُ أهلك»

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں تھے کہ حضور کی خدمت میں ایک شخص آیا ۱؎ عرض کیا یارسول اﷲ میں تو ہلاک ہوگیا ۲؎ فرمایا تجھے کیا ہوا عرض کیا میں نے بحالت روزہ اپنی بیوی سے صحبت کرلی ۳؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو غلام پاتا ہے جسے آزادکردے ۴؎ بولا نہیں فرمایا تو کیا مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتا ہے بولا نہیں ۵؎ فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کا کھانا پاتا ہے بولا نہیں ۶؎  فرمایا بیٹھ جا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ توقف فرمایا ۷؎ ہم اسی حال میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زنبیل لائی گئی جس میں کھجوریں تھیں عرق بڑی زنبیل ہوتی ہے ۸؎ فرمایا مسئلہ پوچھنے والا کہاں ہے بولا میں ہوں فرمایا یہ لے اور صدقہ کردے ۹؎ اس شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر صدقہ کروں خدا کی قسم مدینہ کے دو گوشوں یعنی دو سنگلاخوں کے بیچ میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی خاندان محتاج نہیں ۱۰؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتی کہ آپ کے دانت مبارک چمک گئے ۱۱؎  فرمایا اپنے گھر والوں کو ہی کھلا ۱۲؎ (مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 441

Go To