Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎ بطن نخلہ مکہ معظمہ سے مشرق کی جانب طائف کے راستہ پر واقع ہے مشہور منزل ہے،اب اسے مضیق کہتے ہیں۔

۳؎  کہ میدان میں جمع ہوکر ایک دوسرے کو دکھانے لگے کہ وہ ہے چاند۔خیال رہے کہ چاند کی طرف اشارہ کرنا دکھانے کے لیے جائز ہے بلاضرورت مکروہ کہ فعل کفار ہے۔(مرقات وشامی)

۴؎  یعنی چاند اونچا اور بڑا تھا اس لیے بعض نے کہا دوسری شب کا ہے،بعض نے کہا تیسری شب کا ہے یعنی کسی نے کہا کل ہوچکا ہے،کسی نے کہا پرسوں ہوچکا ہے یہ چاند رمضان کا تھا یہ حضرات شعبان کے آخر میں عمرہ کرنے گئے تھے۔

۵؎ یعنی مجھے اپنا اندازہ نہ بتاؤ اپنی رؤیت کی خبردو کہ تم میں سے کس نے اس سے پہلے کب دیکھا تھا،کل یا پرسوں۔

۶؎ یعنی حضرت ابن عباس کے فرمانے پر اب ہم نے دیکھنے کی رات بتائی کہ مثلًا کل دیکھا تھا۔

۷؎ یعنی چاند میں چھوٹا بڑا ہونے یا اونچا ہونے کا اعتبار نہیں دیکھنے کا اعتبار ہے۔اس سے وہ لوگ عبرت و نصیحت پکڑیں کہ صرف جنتری یا اخبار میں لکھی ہوئی تاریخ دیکھ کر یا چاند کی بڑائی دیکھ کر جھگڑتے ہیں۔

۸؎ ذات عرق عراق والوں کا میقات ہے جہاں یہ لوگ احرام باندھتے ہیں طائف کے راستہ پر واقع ہے، اب اس کا نام سہل ہے،لاری بسوں کا مشہور اڈہ ہے،فقیر وہاں سے گزرا ہے۔عراق سے مکہ معظمہ جاتے ہوئے بھی اور مکہ معظمہ سے طائف آتے جاتے بھی بڑے عمرہ کا احرام یہاں سے ہی باندھا جاتا ہے،یہاں کا پانی بہت لذیذ اور ہاضم ہے۔

۹؎  حضرت عبداﷲ ابن عباس کا قیام طائف میں تھا،وہاں ہی آپ کا مزار پرانوار ہے،فقیرنے زیارت کی ہے۔غالبًا ان حضرات نے طائف پہنچ کر ان سے یہ مسئلہ پوچھا ہوگا۔جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ شعبان کی مدت رمضان کا چاند دیکھنے تک ہے حساب وغیرہ کا اعتبار نہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں لیلۃً فرمانے سے اشارۃً معلوم ہوا کہ اگر دن میں زوال کے بعد رمضان یا عید کا چاند نظر آجائے مگر بعدغروب آفتاب نظر نہ آئے تو اس دیکھنے کا کوئی اعتبار نہیں آفتاب ڈوبنے کے بعد رؤیت کا اعتبار ہے۔واﷲ اعلم!


 



Total Pages: 441

Go To