Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎  اس زمانے میں چونکہ اسلام میں فرقے نہ بنے تھے صرف کلمہ طیبہ پڑھ لینا مسلمان ہونے کے لیے کافی تھا،نیز کلمہ طیبہ پڑھنا تمام عقائد اسلامیہ مان لینے کی دلیل تھا اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہ دو اقرار کرائے۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ رمضان کے چاند میں مسلمان کی خبر معتبر ہے نہ کہ کافر کی۔دوسرے یہ کہ کسی بات کے جواب میں ہاں کہہ دینا یہ بھی اقرار ہوتا ہے،اس سے اقرار نکاح طلاق کے بہت سے مسائل مستنبط ہوں گے،مثلًا کسی نے پوچھا کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اس نے کہا ہاں طلاق ہوگئی وغیرہ۔البتہ حدود قصاص میں اقرار کے صریح الفاظ بولنے ضروری ہیں وہاں فقط ہاں کافی نہیں کیونکہ یہ چیزیں شبہات سے ختم ہوجاتی ہیں۔فقیر نے حدیث کی جو شرح عرض کی اس سے معلوم ہوگیا کہ اب مرزائیوں وغیرہ مرتدین کا فقط کلمہ پڑھ لینااسلام کے لیے کافی نہیں خود زمانہ نبوی میں(صلی اللہ علیہ وسلم)منافقوں کا کلمہ پڑھنا ان کے اسلام کے لیے کافی نہ تھا لہذا یہ حدیث نہ تو قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف ہے"وَاللہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ لَکٰذِبُوۡنَ"اور نہ ان احادیث کے مخالف جن میں فرمایا گیا کہ آئندہ زمانے میں لوگ قرآن اور نمازیں پڑھیں گے مگر اسلام سے دور ہوں گے۔

۳؎  فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر انتیسویں شعبان کو مطلع صاف نہ ہو تو ایک عادل مسلمان کی خبر سے رمضان کے چاند کا ثبوت ہوجائے گا،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔اس حدیث سے اشارۃً معلوم ہوا کہ سارے صحابہ عادل ہیں کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کلمہ کا اقرار کراکر اعمال کی تحقیق نہ فرمائی،نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ رمضان کے روزے کی نیت دن میں بھی ہوسکتی ہے رات سے نیت کرنا ضروری نہیں۔

1979 -[11]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلَالَ فَأَخْبَرْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي رَأَيْتُهُ فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبردی کہ میں نے چاند دیکھ لیا حضور نے خود روزہ رکھا اور لوگوں کو روزے کا حکم دیا ۱؎(ابوداؤد،دارمی)

۱؎ یعنی انتیسویں شعبان کو مطلع صاف نہ تھا،لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی کسی کو نظر نہ آیا،صرف میری خبر پر حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کا حکم دے دیا۔خیال رہے کہ حضرت امام شافعی کے ہاں رمضان کے چاند میں جب کہ مطلع صاف نہ ہو دو شخصوں کی گواہی ضروری ہے مگر یہ احادیث ان کے اس فرمان کے خلاف ہیں اس لیے اکثر شوافع اس حدیث پر فتویٰ دے کر صرف ایک مسلمان کی خبر معتبر مانتے ہیں،ہمارے امام اعظم رحمۃ اللہ  علیہ کے ہاں صرف ایک عادل کی خبر کافی ہے اور اگر مطلع صاف ہو تو بڑی جماعت کی گواہی سے چاند کا ثبوت ہوگا عید کے چاند میں اگر مطلع صاف نہ ہو تو دو کی گواہی ضروری ہے اور اگر صاف ہو تو بڑی جماعت کی گواہی درکار ہے کیونکہ رمضان کے چاند پر صرف شرعی احکام مرتب ہوتے ہیں جن میں ایک کی خبر کافی ہوگی ہے مگر عید کے چاند سے بندوں کے حقوق وابستہ ہیں لہذا یہاں دو کی گواہی ضروری ہوئی، بڑی جماعت میں اختلاف ہےامام ابویوسف کے ہاں پچا س آدمی بڑی جماعت ہیں،بعض کے ہاں تعداد مقرر نہیں،اتنے لوگوں کی گواہی ضروری ہے جن سے چاند کا گمان غالب ہوجائے۔

 



Total Pages: 441

Go To