Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1970 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غم عَلَيْكُم فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطارکرو ۱؎ پھر اگر چاند تم پر مشتبہ ہوجائے تو شعبان تیس دن کا شمار کرو۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  صُوْمُوْا کا فاعل سارے مسلمان ہیں،لِرُؤیَتِہٖ میں ہ ضمیر کا مرجع چاند ہے،لِرُؤیَتِکُمْ نہ فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ کہیں بھی چاند ہوجائے سب مسلمانوں پر روزہ فرض ہوجائے گا بشرطیکہ انہیں چاند کا ثبوت شرعی پہنچ جائے چاند میں اختلاف مطالع کا اعتبار نہ ہوگاجیساکہ شوافع کا خیال ہے کہ ایک علاقہ کی رویت دوسرے علاقہ والوں کے لیے معتبر نہیں مانتے یہ حدیث ان کے خلاف ہے اور احناف کی دلیل ہے۔شوافع کی دلیل حضرت عمر کا یہ فرمان"لَھُمْ رُؤیَتُھُمْ وَلَنَا رُؤیَتُنَا"اس کا جواب ان شاءاﷲ اسی حدیث کے ماتحت دیا جائے گا کہ وہاں شرعی گواہی نہ ہونے کی وجہ سے یہ فرمایا تھا۔بعض جہلا تیسویں رمضان کو عید کا چاند عصر کے وقت دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ عید کا چاند نظر آگیا روزہ کھول دو یہ غلط ہے یہاں افطار سے مراد کل روزہ نہ رکھنا اور عید منانا ہے نہ کہ روزہ توڑ دینا جیساکہ اگلے جملہ سے معلوم ہورہا ہے۔

۲؎  چاند مشتبہ ہونے کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ کہیں نظر ہی نہ آئے جنتری والے کہتے ہوں کہ کل چاند ہوگیا۔دوسرے یہ کہ اڑتے اڑتے معلوم ہوجائے کہ فلاں جگہ چاند ہوگیا شرعی گواہی نہ پہنچے۔فقیر نے ریڈیوں کی خبر کے متعلق فتویٰ یہ دیا ہے کہ اگر ریڈیو پر کہیں چاند ہونے کی خبر دی جائے تو معتبر نہیں اور سننے والے اس خبر پر روزہ یا عید نہیں مناسکتے لیکن اگر حکومت اسلامیہ کی قائم کردہ ہلال کمیٹی شرعی قواعد کی رو سے شرعی گواہی لے کر چاند ہوجانے کا فیصلہ کرے اور اپنے فیصلہ کا ریڈیو پر اعلان کرے تو معتبر ہے کیونکہ پہلی صورت میں چاند کی خبر کا اعلان ہے اور اس صورت میں حاکم کے فیصلہ کا، پہلا غیرمعتبر دوسرا معتبر۔حاکم کے فیصلہ کی اطلاع تو فائر،گولہ،چراغاں وغیرہ سے کردینا بھی جائز ہے ریڈیو کی اطلاع تو اس سے کہیں زیادہ قوی ہے۔اس مسئلہ کی نہایت نفیس تحقیق ہمارے فتاوےٰ نعیمیہ میں دیکھو۔خیال رہے کہ فقیر کا یہ فتویٰ اس صورت میں ہے کہ ہلال کمیٹی کے اراکین مسائل شرعیہ سے واقف ہوں اور گواہی وغیرہ شرعی قواعد سے حاصل کریں۔

1971 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أمة أُميَّة لَا تكْتب وَلَا تحسب الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا» . وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ. ثُمَّ قَالَ: «الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا» . يَعْنِي تَمَامَ الثَّلَاثِينَ يَعْنِي مَرَّةً تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمرَّة ثَلَاثِينَ "

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگ بے پڑھی جماعت ہیں نہ لکھیں نہ حساب لگائیں ۱؎ مہینہ یا تو اتنا اتنا اور اتنا ہے تیسری بار میں انگوٹھا شریف بند کرلیا پھر فرمایا کہ مہینہ اتنا اتنا اور اتنا یعنی پورے تیس دن کا یعنی انتیس کا اور کبھی تیس کا ۲؎(مسلم،بخاری)

 ۱؎ لفظ ام اُمٌّ سے بنا،بمعنی اصل یا ماں اس میں اشارہ اہل عرب کی طرف ہے۔امی کے معنے ہیں ام القرے یعنی مکہ یا حجاز والا یا بے پڑھا ہوا شخص کہ جیسے ماں کے شکم سے پیدا ہو ویسے ہی رہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو امی کہا جاتا ہے اس کی نفیس تفسیریں ہماری کتاب "شان حبیب الرحمن"میں ملاحظہ فرمائیے یعنی ہم حجازی جماعت عمومًا حساب کتاب نہیں کیا کرتے یا عام صحابہ بے پڑھے ہیں حساب نہیں لگاتے مگر قیامت تک سارے مسلمان انہیں بے پڑھوں کے تابع ہیں۔(مرقاۃ)خیال رہے کہ امی کے



Total Pages: 441

Go To