Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۳؎ اس طرح کہ روزوں کی شفاعت سے گناہ معاف ہوں گے اور قرآن کی شفاعت سے درجے بلند یا روزوں کی شفاعت سے غضبِ الٰہی کی آگ ٹھنڈی ہوگی اور قرآن کی شفاعت سے رحمت الٰہی کی ہوا چلے گی وغیرہ وغیرہ۔روزے اور قرآن بلکہ سارے اعمال وہاں شکلوں میں نمودار ہوں گے جیسے آج دنیا میں ہم واقعات کو خواب میں مختلف شکلوں میں دیکھ لیتے ہیں۔بادشاہ مصر نے آئندہ قحط سالیوں کو گایوں اور بالیوں کی شکل میں دیکھا تھا۔

1964 -[9]

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: دَخَلَ رَمَضَانُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مَنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ وَلَا يُحْرَمُ خَيْرَهَا إِلَّا كل محروم» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت انس ابن مالک سے فرماتے ہیں رمضان آیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مہینہ تمہارے پاس آگیا ۱؎ اس میں رات ہے ہزار مہینوں سے بھلی جو اس رات سے محروم رہا وہ ساری خیر سے محروم رہا ۲؎ اور ساری خیر سے پورا بدنصیب محرو م رہتا ہے۳؎(ابن ماجہ)

۱؎ یعنی ماہ رمضان وہ سخی ہے جو تمہارے پاس آکر دیتا ہے جیسے بادل آکر پانی دیتا ہے کنوئیں کی طرح بلاکر نہیں دیتا۔

۲؎ یعنی یہ ایک رات تو تراسی سال چار ماہ سے بہتر ہے اگر وہ شبِ قدر سے خالی ہوں۔

۳؎  اس کی شرح ابھی گزر گئی کہ اس رات کی عبادت میں مشقت نہایت ہی کم ہے اور ثواب بہت ہی زیادہ جو اتنی سی محنت بھی نہ کرسکے وہ پورا ہی محروم و بدنصیب ہے۔

1965 -[10]

وَعَن سلمَان قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ مُبَارَكٌ شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مَنْ أَلْفِ شهر جعل الله تَعَالَى صِيَامَهُ فَرِيضَةً وَقِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بخصلة من الْخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ وَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيهِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ وَالصَّبْر ثَوَابه الْجنَّة وَشهر الْمُوَاسَاة وَشهر يزْدَاد فِيهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ لَهُ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهِ وَعِتْقَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ وَكَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ كلنا يجد مَا نُفَطِّرُ بِهِ الصَّائِمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُعْطِي اللَّهُ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَى مَذْقَةِ لَبَنٍ أَوْ تَمْرَةٍ أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ وَمَنْ أَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ وَمَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهِ فِيهِ غَفَرَ الله لَهُ وَأعْتقهُ من النَّار» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ

روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہم میں وعظ فرمایا تو فرمایا اے لوگو تم پر عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے ۱؎ یہ مہینہ برکت والا ہے جس کی ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے وہ یہ مہینہ ہے جس کے روزے اﷲ نے فرض کئے اور جس کی رات کا قیام نفل بنایا۲؎ جو اس ماہ میں نفلی بھلائی سے قربِ الٰہی حاصل کرے تو گویا اس نے دوسرے مہینہ میں فرض ادا کیا اور جو اس میں ایک فرض ادا کرے تو ایسا ہوگا جیسے اس نے دوسرے مہینہ میں ستر فرض ادا کئے ۳؎ یہ صبر کا مہینہ ہے ۴؎  اور صبر کا ثواب جنت ہے یہ غربا کی غم خواری کا مہینہ ہے ۵؎ٍ یہ وہ مہینہ ہے جس میں مؤمن کا رزق بڑھایا جاتا ہے۶؎ جو اس مہینہ میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے تو اس کے گناہوں کی بخشش اس کی گردن کی آزادی آگ سے ہوگی اور اسے روزہ دار کا سا ثواب ملے گا۷؎ اس کے بغیر کہ روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم ہو۸؎ ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ ہم میں سے ہر شخص وہ نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کرائے ۹؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ یہ ثواب اسے دے گا جو روزہ دار کو ایک گھونٹ دودھ یا کھجور یا گھونٹ بھر پانی ۱۰؎ سے افطار کرائے اور جو روزہ دار کو سیر کرے اﷲ اسے میرے حوض سے وہ پانی پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا حتی کہ جنت میں داخل ہوجائے ۱۱؎ یہ وہ مہینہ ہے جس کے اول میں رحمت،بیچ میں بخشش اور آخر میں آگ سے آزادی ہے۱۲؎  اور جو اس مہینہ میں اپنے غلام سے تخفیف کرے تو اﷲ اسے بخش دے گا اور آگ سے آزاد کردے گا ۱۳؎

 



Total Pages: 441

Go To