Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1945 -[17] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن أنس بن مَالك قَالَ: كَانَ أَبُو طَلْحَة أَكثر أَنْصَارِي بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بيرحاء وَكَانَت مُسْتَقْبل الْمَسْجِدَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أنس فَلَمَّا نزلت (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ)قَامَ أَبُو طَلْحَة فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُول: (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ)وَإِنَّ أَحَبَّ مَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَاءُ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لله أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَخٍ بَخٍ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَإِنَّى أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ» . فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَّمَهَا أَبُو طَلْحَة فِي أَقَاربه وَفِي بني عَمه

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ مدینہ میں تمام انصار سے زیادہ باغوں والے تھے اور انہیں زیادہ پیارا مال باغ بیرحاء تھا ۱؎ جو مسجد شریف کے سامنے تھا رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے تھے اور وہاں کا بہترین پانی پیتے تھے ۲؎ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ"الخ نازل ہوئی ۳؎ تو حضرت ابوطلحہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کھڑے ہوکر بولے یا رسول اﷲ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ تم بھلائی اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنا پسندیدہ مال خرچ نہ کرو اور مجھے بہت پسندیدہ مال باغ بیرحاء ہے اب وہ اﷲ کے لیے صدقہ ہے میں اﷲ کے پاس اس کا ثواب اور اس کا ذخیرہ چاہتا ہوں۴؎ یا رسول اﷲ آپ اسے وہاں خرچ کریں جہاں رب تعالٰی آپ کی رائے قائم فرمائے ۵؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوب خوب یہ تو بڑا نفع کا مال ہے ۶؎ جو تم نے کہا میں نے سن لیا میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے اہل قرابت میں وقف کردو ۷؎ ابوطلحہ بولے یا رسول اﷲ میں یہ ہی کرتا ہوں پھر اسے ابوطلحہ نے اپنے عزیزوں اور چچا زادوں میں تقسیم کردیا ۸؎(مسلم، بخاری)

۱؎ حضرت طلحہ کے ایک باغ کا نام ہے۔اس نام کے محدثین نے آٹھ معنے کئے ہیں:جن میں سے ایک یہ کہ حاء ایک آدمی کا نام تھا جس نے یہ کنواں کھدوایا تھا،چونکہ یہ کنواں اس باغ میں تھا لہذا باغ کا نام بھی یہ ہی ہوا،وہ کنواں اب تک موجود ہے۔فقیر نے اس کا پانی پیا ہے۔دوسرے یہ کہ بیرحاء بروزن فعیل ہے ایک ہی لفظ ہے براح سے مشتق،بمعنی کھلی زمین پہلی صورت میں اس کے معنے ہوں گے حاء کا کنواں دوسری صورت میں معنے ہوں گے کھلا باغ۔(ازمرقات وغیرہ)

۲؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہاں کا پانی بہت محبوب تھا اسی لیے حجاج باخبر ضرور اس کا پانی برکت کے لیے پیتے ہیں۔

۳؎ جس میں ارشاد ہوا کہ تم بھلائی یعنی رضائے الٰہی یا جنت اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو۔اس آیت کی مکمل تفیسر ہماری تفسیر"نور العرفان"میں ملاحظہ فرمایئے۔

۴؎ حضرت ابوطلحہ کے اس عرض و معروض کا مقصد یہ تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے اس عمل خیر پر گواہ ہوجائیں اور مسلمانوں میں اس وقف کا اعلان ہوجائے۔خیال رہے کہ دوسرے نفلی صدقات اکثر خفیہ دینا بہتر ہیں مگر وقف کا ہر طرح اعلان کردینا سخت ضروری ہے تاکہ آئندہ اس موقوف چیز پر کوئی ناجائز قبضہ نہ کرسکے حتی کہ مسجد کی عمارت میں مینار گنبد وغیرہ ایسے نشانات قائم کردیئے جائیں جس سے وہ دور سے ہی مسجد معلوم ہو اس میں ریا نہیں بلکہ وقف کا باقی رکھنا ہے،نیز آپ کا اپنا دلی اخلاص ظاہرکرنا ریاء کے لیے نہ تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا حاصل کر نے کے لیے تھا لہذا حدیث پاک پر کوئی اعتراض نہیں۔

 



Total Pages: 441

Go To