Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب الذکر بعد الصلوۃ

نماز کے بعد ذکر کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎   اس ذکر سے مراد حمد  الٰہی ،درود شریف اور تمام دعائیں ہیں۔تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ بعد نماز خوب اونچی آواز سے ذکر اﷲ کرنا سنت ہے جیسا کہ آئندہ احادیث میں آرہا ہے۔اس میں اختلاف ہے کہ جن فرائض کے بعد سنتیں ہیں ان کے بعد ذکر وغیرہ کرے یا نہ کرے،صحیح یہ ہے کہ کرے مگر مختصر۔

959 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم بِالتَّكْبِيرِ

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونا تکبیر سے پہچانتا تھا ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی میں زمانہ نبوی میں بہت کم عمر تھا اس لیے کبھی کبھی جماعت میں حاضر نہ ہوتا مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ نمازکے بعد اتنی بلند آواز سے تکبیریں کہتے تھے کہ گھروں میں آواز پہنچ جاتی تھی اور ہم پہچان لیا کرتے تھے کہ نماز ختم ہوگئی۔ بعض مشائخ ہر نماز کے بعد بلند آواز سے تین بار کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں،پنجاب میں فجر اور عشاء کے بعد اونچی آواز سے درود شریف پڑھا جاتا ہے ان سب کا ماخذ یہی حدیث ہے بلکہ مسلم شریف میں ہے کہ نمازوں کے بعد ذکر بالجہر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے عہد میں عام مروج تھا۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں دیکھو،یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں"وَاذْکُرۡ رَّبَّکَ فِیۡ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیۡفَۃً" اس لیے کہ آیت میں اخفاء کی نمازوں کی تلاوت مراد ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس ذکر بالجہر سے ان نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے جو اپنی فوت شدہ رکعتیں پوری کررہے ہیں مگر ان کا یہ قیاس حدیث کے مقابل ہے،نیز وہ لوگ تشریق کی تکبیروں اور حاجی کے تلبیوں اور حرم شریف کی نمازوں میں کیا کریں گے کہ ان سب میں بڑا شور ہوتا ہے۔

960 -[2]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجلَال وَالْإِكْرَام» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سےفرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو نہ بیٹھتے مگر صرف اس قدر کہ کہتے کہ الہی تو سلام ہے اور تجھ سے سلامتی ہے تو برکت والا ہے اے جلال وبزرگی والے ۱؎(مسلم)

۱؎  یعنی جن نمازوں کے بعدسنتیں ہوتی ہیں ان میں فرض اور سنتوں کے درمیان زیادہ نہ بیٹھتے صرف اس قدر بیٹھتے۔ اس مقدار سے تقریبی مقدار مراد ہے نہ کہ تحقیقی یعنی قریبًا اتنا بیٹھتے لہذا یہ حدیث نہ تو اس روایت کے خلاف ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بعدفجر طلوع آفتاب تک مصلے پر تشریف فرمارہتے اور نہ ان احادیث کے خلاف ہے جن میں ہے کہ آپ سلام پھیر کر تکبیریں کہتے یا استغفار پڑھتے یا اور دعائیں مانگتے۔

 



Total Pages: 519

Go To