Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۲؎  یہ حکم امام اور مقتدیوں دونوں کے لیے ہے کہ جہاں جماعت سے فرض پڑھے وہاں سے کچھ ہٹ کر سنتیں وغیرہ پڑھے مگر چونکہ زیادہ بھیڑ میں مقتدی نہیں ہٹ سکتے اس لیے صرف امام کا ذکر فرمایا گیا۔یہ حکم استحبابی ہے تاکہ چند جگہ عبادت ہو اور وہ مقامات قیامت میں اس کی گواہی دیں،نیز آنے والے کو دھوکہ نہ لگے کہ ابھی فرض ہورہے ہیں۔

۳؎  کیونکہ حضرت مغیرہ عطاء خراسانی کی ولادت کے سال فوت ہوگئے یعنی  ۵۰ ھ؁ میں لہذا یہ حدیث منقطع ہے۔

954 -[16]

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز کی رغبت دی اور اس سے منع کیا کہ آپ کے نماز سے فراغت سے پہلے وہ چلے جائیں ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ معلوم ہوا ہے کہ مقتدی امام کے ساتھ دعا میں شریک رہیں بلاوجہ امام سے پہلے مسجد سے نہ چلے جائیں،نیز امام کے سلام سے پہلے مسبوق کا کھڑا ہوجانا حرام ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

955 -[17]

وَعَن شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسأَلك الثَّبَات فِي الْأَمر والعزيمة عَلَى الرُّشْدِ وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا وَلِسَانًا صَادِقًا وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وروى أَحْمد نَحوه

روایت ہے حضرت شداد ابن اوس سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نماز میں یوں فرماتے تھے الٰہی  میں تجھ سے دین میں اسقامت اور ہدایت پر مضبوطی مانگتا ہوں ۲؎ اور تجھ سے تیری نعمت کا شکر اور تیری اچھی عبادت مانگتا ہوں اور تجھ سے سلامت دل اور سچی زبان مانگتا ہوں۳؎ اور تجھ سے وہ خیر مانگتا ہوں جو تو جانتا ہے اور اس کی شر سے پناہ مانگتا ہوں جو تو جانتا ہے ۴؎  اور اس سے بخشش مانگتا ہوں جو تو جانتا ہے۵؎(نسائی)اور ابوداؤد نے اس کی مثل روایت کی۔

۱؎ آپ کی کنیت ابویعلی ہے،حضرت حسان کے بھتیجے ہیں،شام میں قیام رہا۔

۲؎ یعنی دنیا میں کسی وقت ایمان سے ہٹ نہ جاؤں اور کبھی ہدایت سے علیحدہ نہ ہوں۔

۳؎ یعنی دل ایسا عطا فرماجو برے عقائد،حسد،کینہ اور بری صفات سے سلامت ہو اور زبان پر ہمیشہ سچی بات آئے۔

۴؎  یعنی بہت سی خیر وہ ہیں جنہیں ہم شر سمجھتے ہیں یا ہم ان سے بالکل بے خبر ہیں اور بہت سی شروہ ہیں جنہیں ہم خیر سمجھے ہوئے ہیں یا ان سے بے خبر ہیں خدایا تیری عطا ہماری طلب پر موقوف نہ ہو بلکہ تیرے کرم پر ہو۔

 ۵؎ یعنی بہت سے گناہ کرکے ہم بھول گئے مگر تیرے علم میں ہیں خداوند وہ بھی معاف کر۔

956 -[18]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ: «أَحْسَنُ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هدي مُحَمَّد» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں التحیات کے بعد کہتے تھے کہ اچھا کلام اﷲ کا کلام ہے اور اچھا طریقہ حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کا ہے۱؎(نسائی)

 



Total Pages: 519

Go To