Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۴؎   آل ابراہیم میں حضور بھی داخل ہیں لہذا اس کلمے میں بھی حضور پر درود ہوا۔

933 -[15]

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَخِيلُ الَّذِي ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا کنجوس وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر ہو وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۱؎  (ترمذی) احمد نے حسین ابن علی سے روایت کی اور ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۲؎

۱؎ کیونکہ درود میں کچھ خرچ تو ہوتا نہیں اور ثواب بہت مل جاتا ہے اس ثواب سے محرومی بڑی ہی بدنصیبی ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب بھی حضور کا نام سنے یا پڑھے تو دورد شریف ضرور پڑھے کہ یہ مستحب ہے۔

۲؎ یعنی چنداسنادوں سے مروی ہے۔بعض اسناد میں حسن ہے،بعض میں صحیح،بعض میں غریب۔

934 -[16]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي سَمِعْتُهُ وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ نَائِيًا أُبْلِغْتُهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو میری قبر کے پاس مجھ پر درود پڑھے گا میں سنوں گا اور جو دور سے مجھ پر درود پڑھے گا مجھے پہنچایا جائے گا ۱؎  (بیہقی، شعب الایمان)

۱؎ یعنی روضہ اطہر پر درود پڑھنے والے کا درود بلا واسطہ سنتا ہوں اور دور سے پڑھنے والے کا درود سنتا بھی ہوں اور پہنچایا بھی جاتا ہوں کیونکہ یہاں دور کا درود سننے کی نفی نہیں۔صوفیا فرماتے ہیں کہ محبت والا درود خواں دور بھی ہو تو روضہ پاک سے قریب ہے اور محبت سے خالی قریب بھی ہو تب بھی دور،ان کے ہاں حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دلی قرب والوں کا درود میں خود محبت سے سنتا ہوں خشکوں کا درود فرشتے ڈیوٹی ادا کرنے کے لیے پہنچاتو دیتے ہیں مگر میں توجہ سے سنتا نہیں،اس ہی مضمون کی ایک حدیث دلائل الخیرات شریف کے مقدمہ میں ہے جس میں فرمایا "اَسْمَعَ صَلوٰۃَ اَھْلِ مَحَبَّتِیْ" الخ۔اس صورت میں حدیث بالکل ظاہر ہے ورنہ جو محبوب ہزار ہا من مٹی کے حجاب سے درودسن لے وہ دور سے درود کیوں نہ سنے۔

935 -[17]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَمَلَائِكَتُهُ سَبْعِينَ صَلَاةً. رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بار درود پڑھے گا تو اس پر اﷲ اور فرشتے ستر بار درود بھیجیں گے (احمد)۱؎

۱؎ یہاں جمعہ کے دن کا درود مراد ہے کیونکہ جمعہ کی ایک نیکی ستر کے برابر ہوتی ہے اسی لیے جمعہ کا حج حج اکبر کہلاتا ہے اور اس کا ثواب ستر۷۰ حج کا،دیگر احادیث میں اور دونوں کے درود کا ذکر ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں،یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے لیکن مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ اس میں قیاس کو دخل نہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To