$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ یہاں بھی سوال نماز کے بارے میں ہے جیسا کہ جواب سے ظاہر ہے درود ابراہیمی صرف نماز کے لیے ہے۔

۲؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی گویا تفسیر ہے اس نے بتایا کہ آل محمد میں حضور کی بیویاں اولاد سب داخل ہیں بیویاں اہل بیت سکونت ہیں اور اولاد اہل بیت ولادت قرآن کریم نے عمران کی بیوی حمنہ اور ان کی بیٹی حضرت مریم کو آل عمران فرمایا خیال رہے کہ ذریت ساری نسل کو کہا جاتا ہے امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے ہاں بیٹی کی اولاد ذریت نہیں سوائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ کی بیٹی کی اولاد آپ کی ذریت ہے۔

921 -[3]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عشرا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا اس پر اﷲ دس رحمتیں کرے گا ۱؎ (مسلم)

 ۱؎  اس حدیث کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہوتی ہے "مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا" اسلام میں ایک نیکی کا بدلہ کم از کم دس گناہ ہے۔خیال رہے کہ بندہ اپنی حیثیت کے لائق درود شریف پڑھتا ہے مگر رب تعالٰی اپنی شان کے لائق اس پر رحمتیں اتارتا ہے جو بندے کے خیال و گمان سے وراء ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

922 -[4]  

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحُطَّتْ عَنْهُ عَشْرُ خَطِيئَاتٍ وَرُفِعَتْ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مجھ پر ایک درود پڑھے گا اﷲ اس پر دس رحمتیں کرے گا اور اس کے دس گناہ معاف کیئے جائیں گے اور اس کے دس درجے بلند کئے جائیں گے ۱؎ (نسائی)

 ۱؎ یعنی ایک درود میں تین فائدے ہیں:دس رحمتیں،دس گناہوں کی معافی اور دس درجوں کی بلندی۔مبارک ہیں وہ لوگ جن کی زبان ہر وقت درود شریف سے ہلتی رہے،درود شریف ہر دعا کی قبولیت کی شرط ہے۔

923 -[5]

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت میں مجھ سے زیادہ قریب وہ ہوگا جو مجھ پر زیادہ درود پڑھے گا ۱؎ (ترمذی)

۱؎ قیامت میں سب سے آرام میں وہ ہوگا جو حضور کے ساتھ رہے اور حضور کی ہمراہی نصیب ہونے کا ذریعہ درود شریف کی کثرت ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ درود شریف بہترین نیکی ہے کہ تمام نیکیوں سے جنت ملتی ہے اور اس سے بزم جنت کے دولہا صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html