Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب الصلوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وفضلھا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے اور اس کی فضیلت کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  صلوۃ کے معنی ہیں رحمت یا طلب رحمت۔جب اس کا فاعل رب ہو تو بمعنی رحمت ہوتی ہے اور فاعل جب بندے ہوں تو بمعنی طلب رحمت،درود شریف کے فضائل ہماری شمار سے باہر ہیں۔حق یہ ہے کہ ہرمسلمان پر عمر میں ایک بار درود شریف پڑھنا فرض اور ہر مجلس میں جہاں بار بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام شریف لیا جائے ایک بار واجب ہے اور ہر بارمستحب۔ نماز کے قعدے میں درود شریف امام شافعی کے ہاں فرض ہے، احناف اور دیگر آئمہ کے ہاں سنت مؤکدہ یا واجب،درود شریف صرف نبی یا فرشتوں پر ہوسکتا ہے غیر نبی پر نبی کے تابع ہو کر درود جائز بالاستقلال مکروہ۔

919 -[14] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ بَلَى فَأَهْدِهَا لِي فَقَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ عَلَّمَنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكُم قَالَ: «قُولُوا اللَّهُمَّ صل عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حُمَيْدٌ مجيد اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حميد مجيد» . إِلَّا أَنَّ مُسْلِمًا لَمْ يَذْكُرْ " عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي الْمَوْضِعَيْنِ.

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابی لیلی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت کعب ابن عجرہ ملے ۲؎ تو بولے کہ کیا میں تمہیں وہ ہدیہ نہ دوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے میں نے کہا ہاں وہ ہدیہ مجھے ضرور دیں ۳؎ تو فرمایا کہ ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا عرض کیا یارسول اﷲ آپ کے اہل بیت پر دورد کیا ہے اﷲ نے یہ تو ہمیں سکھادیا کہ آپ پر سلام کیسے عرض کریں۴؎ فرمایا یوں کہو اے اﷲ محمد اور آل محمد پر رحمتیں بھیج ۵؎ جیسے حضرت ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں کیں بے شک تو حمد و بزرگی والا ہے ۶؎ اے اﷲ حضور محمد و آل محمد پر ایسی ہی برکتیں بھیج جیسی برکتیں حضرت ابراہیم و آل ابراہیم پر اتاریں۷؎ بے شک تو حمد و بزرگی والا ہے ۸؎ (مسلم و بخاری)مگر مسلم نے دونوں جگہ علیٰ ابراھیم کا ذکر نہ کیا۔

 ۱؎ آپ انصاری ہیں،تابعی ہیں،مدنی ہیں،ایک سو بیس صحابہ سے ملاقات کی،خلافت فاروقی میں عمر فاروق کی شہادت سے چھ سال پہلے پیدا ہوئے،آپ کے والد صحابی ہیں،غزوہ احد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔

۲؎ آپ صحابی ہیں،بیعت رضوان میں موجود تھے،کوفہ میں قیام رہا،۷۵ سال عمر ہوئی،    ۵۱ھ؁ میں مدینہ منورہ میں انتقال کیا۔

۳؎ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام حضور کی احادیث کو پیش قیمت ہدیہ اور بے بہا اسلامی تحفہ سمجھتے تھے اور نعمت لَایَزَال سمجھ کر اسے سناتے تھے۔

 



Total Pages: 519

Go To