Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

914 -[9]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْلِسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ وَهُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى يَدِهِ. رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: نَهَى أَنْ يَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلَى يَدَيْهِ إِذا نَهَضَ فِي الصَّلَاة

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا کہ کوئی نماز میں اپنے ہاتھ پر ٹیک لگا کر بیٹھے ۱؎(احمد،ابوداؤد،)اسی کی ایک روایت میں ہے اس سے منع فرمایا کہ دونوں ہاتھوں پر ٹیک لگائے جب نماز میں اٹھے۲؎

۱؎  یعنی نماز میں اپنی طاقت سے بیٹھنا چاہیے زمین یا گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا اور اس پر جسم کا بوجھ ڈالنا منع ہے اس حالت میں ہاتھ ڈھیلے رہیں۔

۲؎ یعنی سجدے سے اٹھتے وقت ہاتھوں پر ٹیک لگانا منع ہے بلکہ گھٹنوں اور رانوں پر زور دے کر اٹھے،یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ دوسری اور چوتھی رکعت میں جلسہ استراحت نہ کیا جائے کیونکہ اس صورت میں ہاتھوں پر ضرور ٹیک لگانا پڑتی ہے۔جن روایتوں میں اس نشست کا ثبوت ہے وہاں بڑھاپے یا بیماری کی مجبوریاں مراد ہیں۔

915 -[10]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ حَتَّى يَقُومَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

روایت ہے حضرت عبدا ﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو پہلی رکعتوں میں ایسے ہوتے تھے گویا آپ گرم پتھر پر ہیں حتی کہ کھڑے ہوتے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی)

۱؎ یعنی تین یا چار رکعت والے فرائض میں آپ قعدہ میں زیادہ دیر نہ لگاتے بلکہ صرف التحیات پڑھ کر کھڑے ہوجاتے۔گرم پتھر ہونے سے مراد جلدی اٹھنا ہے اس کے سوا اور جو توجیہیں کی گئی ہیں باطل ہیں عربی میں رضف اس گرم پتھر کو کہتے ہیں جو دودھ گرم کرنے کے لیے استعمال کیاجاتاہے۔

الفصل  الثالث

تیسری فصل

916 -[11]

عَن جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ من الْقُرْآن: «بِسم الله وَبِاللَّهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ہم کو التحیات ایسے سکھاتے تھے جیسے ہم کو قرآن کی سورت سکھاتے ۱؎ اﷲ کے نام سے اور اﷲسے تحیتیں پاک نمازیں اﷲ کے لیے ہیں ۲؎ اے نبی آپ پر سلام ہو۳؎ اور اﷲ کی رحمت اس کی برکتیں ہوں ہم پر اوراﷲ کے نیک بندوں پر سلام ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اﷲ کے بندے و رسول ہیں ۴؎ اﷲ سے جنت مانگتا ہوں آگ سے رب کی پناہ (نسائی)

۱؎ یعنی جیسے قرآن کی ایک ایک آیت مختلف الفاظ اور مختلف قرأتوں سے سکھاتے ایسے ہی ہمیں التحیات مختلف الفاظ سے سکھاتے تھے۔(مرقات)ا س سے معلوم ہوا کہ جیسے قرآن شریف کی سات قرأتیں متواتر ہیں اور باقی قرأتیں شاذ ایسے ہی التحیات کی مختلف عبارتیں ہیں جو مختلف صحابہ سے منقول ہیں اور جیسے اب قرآن شریف صرف ایک قرأت سے ہی پڑھنا چاہیے ورنہ فتنہ ہوگا ایسے ہی اب التحیات صرف ایک ہی عبارت سے پڑھنی چاہیئے۔

 



Total Pages: 519

Go To