Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎ معلوم ہوا کہ مسجد میں اپنے واسطےکوئی جگہ خاص کرلینا کہ اورجگہ نماز میں دل ہی نہ لگے مکروہ ہے،ہاں شرعی ضرورت کے لیے جگہ مقررکرلینا جائز ہے،جیسے امام کے لیے محراب مقرر ہے اور بعض مسجدوں میں مکبر کے لیے امام کے پیچھے کی جگہ،انہیں بھی چاہیے کہ سنتیں اورنفل کچھ ہٹ کر پڑھیں،مسجد میں جس جگہ جو پہلے پہنچے وہاں کا وہی مستحق ہے،بعض سلاطین اسلامیہ خاص امام کے پیچھے اپنے لیے جگہ رکھتے تھے وہ معذوری کی بناء پر تھاکیونکہ اور جگہ انہیں جان کا خطرہ تھا۔یہاں باقاعدہ ان کی حفاظت کا انتظام ہوتا تھا لہذا وہ اس حکم سے عذرًا مستثنیٰ ہیں۔دیکھو شامی وغیرہ۔

903 -[17]

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ إِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي وَأَكْرَهُ لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي لَا تقع بَين السَّجْدَتَيْنِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اے علی میں تمہارے لیے وہی پسندکرتا ہوں جو اپنے لیے پسندکرتا ہوں اور تمہارے لیے وہی ناپسندکرتا ہوں جو اپنے لیے ناپسندکرتا ہوں ۱؎ دوسجدوں کے درمیان اکڑوں نہ بیٹھنا ۲؎(ترمذی)

۱؎ یہاں خصوصی پسندیدگی مراد ہے اور اس حدیث میں حضرت علی مرتضیٰ کی انتہائی عظمت کا اظہارہے ورنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ساری امت کے ماں باپ سے زیادہ خیرخواہ ہیں،قرآن کریم فرماتا ہے:"حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ"اور فرماتا ہے:"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"۔حضور نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اپنے بھائی مسلمان کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسندکرتے ہو۔

۲؎ لَا تُقِعْ اِقْعَاءٌ سے بنا جس کے معنی ہیں سرین زمین پر رکھنا دونوں پنڈلیاں کھڑی کرلینا اور ہاتھ زمین سے لگادینا یعنی اکڑوں بیٹھنا یہ نماز میں منع ہے نمازی جب بھی بیٹھے دو زانو بیٹھے۔

904 -[18]

وَعَن طلق بن عَليّ الْحَنَفِيّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى صَلَاةِ عَبْدٍ لَا يُقِيمُ فِيهَا صُلْبَهُ بَيْنَ ركوعها وسجودها» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت طلق ابن علی حنفی سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی اس بندے کی نماز پرنظرنہیں فرماتا جو نماز میں رکوع اور سجدے کے درمیان پیٹھ سیدھی نہیں کرتا ۱؎(احمد)

۱؎ اس سےمعلوم ہوا کہ رکوع کی بعدقومہ واجب ہے،یعنی سیدھا کھڑا ہوجانا کہ تعدیل ارکان میں یہ بھی داخل ہے۔خشوع سے مراد رکوع ہے اور نظر نہ فرمانے سے مراد نماز قبول نہ فرمانا ہے یا شرعًا نماز قبول نہ ہونا۔

905 -[19]

وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: مَنْ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بِالْأَرْضِ فَلْيَضَعْ كَفَّيْهِ عَلَى الَّذِي وَضَعَ عَلَيْهِ جَبْهَتَهُ ثُمَّ إِذَا رَفَعَ فَلْيَرْفَعْهُمَا فَإِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت نافع سے کہ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ جو اپنی پیشانی زمین پر رکھے تو اپنے ہاتھ بھی وہیں رکھے جہاں پیشانی رکھتا ہے ۱؎ پھر جب سر اٹھائے تو ہاتھ بھی اٹھائے کیونکہ جیسے چہرہ سجدہ کرتا ہے ویسے ہی ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں۲؎(مالک)

 



Total Pages: 519

Go To