Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎ یعنی ایک شب حسبِ معمول تہجد کے وقت وضو کا پانی،مسواک،مصلی لےکر خدمت میں حاضر ہوا۔بعض نسخوں میں اَتِیْہِ ہے یعنی لایا کرتا تھا۔

۴؎ یعنی ایک شب شان کریمی کی جلوہ گری ہوئی اور دریائے رحمت جوش میں آگیا،مجھے انعام دینے کا ارادہ فرمایا۔اس جگہ مرقات اور لمعات وغیرہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا یہ چیز مانگو۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم باذن الٰہی  اﷲ کے خزانوں کے مالک ہیں۔دین و دنیا کی جونعمت جسے چاہیں دیں بلکہ حضور احکام شرعیہ کے بھی مالک ہیں جس پر جو احکام چاہیں نافذکریں۔چنانچہ حضرت خزیمہ ابن ثابت کی گواہی دوگواہوں کی مثل قرار دی۔(بخاری)ُامِّ عطیہ کو ایک مرتبہ نوحہ کی اجازت دی۔(مسلم)ابی بردہ ابن نیازکو چھ ماہا بکری کی قربانی کی اجازت دی۔اﷲ نے جنت کی زمین کا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو مالک کیا ہے جسے چاہیں دیں۔(مرقات وغیرہ)

۵؎ یعنی مجھے آپ جنت میں اپنے ساتھ رکھیں،جیسے بادشاہ شاہی قلعہ میں اپنے خاص خادموں کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔خیال رہے کہ حضرت ربیعہ نے اس جگہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے حسب ذیل چیزیں مانگیں:زندگی میں ایمان پر استقامت،نیکیوں کی توفیق،گناہوں سےکنارہ کشی،مرتے وقت ایمان پر خاتمہ،قبر کے حساب میں کامیابی،حشرمیں اعمال کی قبولیت،پل صراط سے بخریت گزر،جنت میں رب کا فضل و بلندیٔ مراتب،یہ سب چیزیں صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگیں اور حضور نے صحابی کو بخشیں،لہذا ہم بھی حضور سے ایمان،مال،اولاد،عزت،جنت،سب کچھ مانگ سکتے ہیں،یہ مانگنا سنت صحابہ ہے۔حضور کےلنگر سے یہ سب کچھ قیامت تک بٹتا رہے گا اور ہم بھکاری لیتے رہے گے۔صوفیاءفرماتےہیں کہ حضرت ربیعہ نے حضور سے حضور ہی کو مانگا مگر چونکہ حضور جنت میں ہی ملیں گے،لہذا جنت کا بھی ذکر کردیا۔

۶؎ یعنی تمہاری یہ درخواست منظور ہے کچھ اور بھی چاہتے ہو؟عرض کیا جب چمن الٰہی  کا پھو ل مل گیا تو پتوں کی کیا ضرورت ہے۔

۷؎ یعنی جنت میں تمہیں اعلیٰ مقام پرپہنچانا میرے کرم سے ہے نہ کہ محض تمہارے سجدوں سے،تم اپنے سجدوں سے مجھے اس کام میں امداد دو۔عَلیٰ نَفسِكَ فرماکر اشارۃً فرمایاگیا کہ نفس کی مخالفت جنت کا ذریعہ ہے۔(مرقات)کثرت سجود سے بتایا گیاکہ فقط نماز پنجگانہ پر کفایت نہ کرو بلکہ نوافل کثرت سے پڑھو تاکہ میرے قرب کے لائق ہوجاؤ،جیسےبادشاہ کہے کہ میرے پاس آناہے تو اچھا لباس پہنو،حاضری بادشاہ کے کرم سے ہے اور اچھا لباس دربار کے آداب میں سے۔شعر

مالک ہیں خزانۂ قدرت کے جوجس کو چاہیں دےڈالیں           دی خلد جناب ربیعہ کو بگڑی لاکھوں کی بنائی ہے

897 -[11]

وَعَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقلت: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْخِلُنِي اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً» . قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت معدان ابن طلحہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان سے ملا میں نے کہا کہ مجھے ایسا عمل بتائیں جو میں کروں تو اﷲ مجھے اس کی برکت سے جنت میں داخل کردے آپ خاموش رہے میں نے پھر پوچھا آپ خاموش رہے میں نے پھرتیسری بار پوچھا تو فرمایا کہ میں نے اس بارے میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا۲؎ آپ نے فرمایا کہ اﷲ کے لیئے زیادہ سجدے اختیارکرو۳؎ کیونکہ تم اﷲ کے لیےکوئی سجدہ نہ کرو گے مگر اﷲ اس کی برکت سے تمہارا درجہ بڑھائے گا اورتمہاری خطا معاف کرے گا۔معدان کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت ابو درداء سے ملا ان سے پوچھا انہوں نے مجھ سے وہی کہا جو ثوبان نے کہا تھا۴؎(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To