Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

الفصل الثالث

تیسری فصل

1766 -[5]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَأَتَاكُمْ مَا تُوعِدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأهل بَقِيع الْغَرْقَد» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ہاں شب کی باری ہوتی تو آپ آخر رات میں بقیع کی طرف نکل جاتے ۱؎ فرماتے اے مؤمن قوم کے گھر والو تم پر سلام،تم سے جس چیز کا وعدہ تھا وہ تمہیں مل گئی کل کی تمہیں مہلت دی ہوئی ہے۲؎ اور ان شاءاﷲ ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۳؎ خدایا بقیع غرقد والوں کو بخش دے۴؎(مسلم)

۱؎ اس سے معلوم ہوتاہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم روزانہ آخری شب میں بقیع یعنی قبرستان مدینہ کی زیارت فرماتے تھے،اپنی باری کا ذکر اس لیئے فرماتی ہیں کہ آپ کے علم میں یہ ہی آیا۔عربی میں بقیع درخت والے میدان کو کہتے ہیں۔غرقد ایک خاص درخت کا نام ہے چونکہ اس میدان میں پہلےغرقد کے درخت تھے اسی لیئے اس جگہ کا نام بقیع الغرقد ہوگیا۔

۲؎ یعنی تمہارا وعدۂ موت پورا ہوچکا اور تم کو موت آچکی،اعمال کا ثواب کل قیامت میں ملے گا،ہماری ابھی موت بھی باقی ہے اور اجرو ثواب بھی۔اس صورت میں یہ دو جملے ہیں یا معنے یہ ہیں کہ جس اجرو ثواب کا تم سے وعدہ تھا وہ عنقریب یعنی کل قیامت میں تمہیں ملنے والا ہے،اس صورت میں یہ ایک جملہ ہے اَتَاکُمْ ماضی بمعنی مستقبل ہے،پہلےمعنے زیادہ موزوں ہیں۔

۳؎ یعنی وفات پاکر تم تک پہنچنے والے ہیں۔یہ مطلب نہیں کہ ہم بقیع میں دفن ہونے والے ہیں کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور بقیع میں نہیں اپنے گھر شریف میں واقع ہوئی۔

۴؎ اس دعا کی وجہ سے بعض مؤمن بقیع میں دفن ہونے کی تمنا کرتے ہیں تاکہ اس خصوصی دعا میں وہ بھی شامل ہوجائیں۔دعا یہ ہے کہ الٰہی  تمام بقیع والے مدفونوں کی مغفرت فرما۔رب تعالٰی اس پاک سرزمین میں دفن ہونا نصیب کرے۔

1767 -[6]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ تَعْنِي فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ قَالَ: " قُولِي: السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَ الْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ للاحقون ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں زیارت قبور میں کیا کروں ۱؎ فرمایا یوں کہا کرو کہ مؤمنوں مسلمانوں کے گھر والوں پر سلام ہو اﷲ ہمارے اگلے پچھلوں پر رحم فرمائے اور ان شاءاﷲ ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۔(مسلم)

۱؎ اس حدیث سےمعلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو زیارت قبور کی اجازت ہے۔وہ جوحدیث شریف میں ہے کہ خدا زیارت قبورکرنے والی عورتوں پر لعنت کرے وہ منسوخ ہے،دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ کو زیارت قبور سے منع فرمایا،بلکہ انہیں



Total Pages: 519

Go To