$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

مولیٰ اسی مؤمن جماعت میں نبی آخر الزمان کو بھیج،حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا یقینًا قبول ہوئی،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے تمام آباء و اجداد مؤمن ہیں۔اس کی تحقیق ہماری کتاب "تفسیرنعیمی" جلد اول میں ملاحظہ کرو۔

1764 -[3]

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سکھاتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو کہیں اے مؤمنوں اور مسلمانوں کے گھر والو تم پر سلام ہو ۱؎ ان شاءاﷲ ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں ۲؎ ہم اﷲ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۳؎(مسلم)

۱؎ اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ قبرستان میں جاکر پہلے سلام کرنا پھر یہ عرض کرنا سنت ہے،اس کے بعد اہلِ قبور کو ایصال ثواب کیا جائے۔اس سے معلوم ہوا کہ مردے باہر والوں کود یکھتے پہچانتے ہیں اور ان کا کلام سنتے ہیں ورنہ انہیں سلام جائز نہ ہوتا کیونکہ جو سنتا نہ ہو یا سلام کا جواب نہ دے سکتا ہو اسے سلام کرنا جائز نہیں،دیکھو سونے والے اور نماز پڑھنے والے کو سلام نہیں کرسکتے۔

۲؎ یہ ان شاءاﷲ یا تو برکت کے لیے یا ایمان پر موت کے لیے یعنی اگر رب نے چاہا تو ہمارا خاتمہ بھی ایمان پر ہوگا اور ہم تم سے ملیں گے،کفار کے پاس نہ جائیں گے ورنہ موت تو یقینًا آنی ہے وہاں ان شاءاﷲ کہنے کی ضرورت نہیں۔

۳؎ عوام مسلمین کی قبروں پر بعد سلام یہ الفاظ کہے جائیں،اولیاء اﷲ کے مزارات پر یوں عرض کرے"سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا کَسَبْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ"اور شہداء کے مزارات پر یوں عرض کرے "سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ"۔ (عالمگیری)یہاں دیار سے مراد قبور ہیں کیونکہ قبریں میتوں کے گھر ہیں اور قبرستان ان کا شہر۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1765 -[4]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورٍ بِالْمَدِينَةِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں کچھ قبروں پرگزرے تو ان کی طرف اپنا چہرہ پاک کیا ۱؎ پھر فرمایا اے قبر والو تم پر سلام ہو،اﷲ ہمیں اورتمہیں بخشے تم ہمارے اگلو ہو،ہم تمہارے پیچھے ۲؎(ترمذی)اورفرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

۱؎ یعنی قبور کی طرف منہ کرکے اور قبلہ کو پشت کرکے کھڑے ہوئے،زیارت قبر کے وقت اسی طرح کھڑا ہونا چاہیے۔(مرقاۃ)قبر کو چومنا ممنوع ہے،البتہ عالمگیری و مرقات میں اس جگہ ہے کہ والدین کی قبریں چومنا جائز ہے۔

۲؎ یعنی ہم سے آگے تم چلے گئے،تمہارے پیچھے ہم بھی آرہے ہیں۔متقدمین کو سلف کہتے ہیں متاخرین کو خلف۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html