Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

موافقت ہو،یہی مضمون مقتدی کی آمین کے بارے میں بھی گزر گیا وہاں بھی اس قسم کے مسائل کا استنباط کیا گیا۔چوتھے یہ کہ اچھوں کی نقل بھی اچھی ہے،ان کےطفیل برے بخشے جاتے ہیں۔

 875 -[8]

وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ ظَهْرَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ من شَيْء بعد» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی پیٹھ رکوع سے اٹھاتے ۱؎ تو فرماتے کہ اﷲ اپنے حمدکرنے والوں کی سنتا ہے الٰہی  ہمارے رب تیرے ہی لیے حمدہے آسمان بھرکر اور زمین بھرکر اور اس کے بعدوہ چیزبھرکرجوتوچاہے ۲؎(مسلم)

۱؎ یعنی نوافل میں کیونکہ فرائض حضورصلی اللہ علیہ وسلم جماعت سے اداکرتے تھے اورجماعت میں امام"ربنا لك الحمد"بھی نہ کہے چہ جائیکہ اور دعائیں جیساکہ ابھی حدیث میں گزر گیا،لہذا یہ حدیث گزشتہ کے خلاف نہیں۔

۲؎ یعنی تیری اتنی حمدیں ہیں کہ اگر وہ جسم ہوں تو زمین و آسمان اور ان کے ماسوا میں نہ سمائیں یا یہ مطلب ہے کہ تیری حمدکرنے والوں سے زمین و آسمان وغیرہ بھرے ہوئے ہیں،ورنہ حمدجسم نہیں جس سے یہ چیزیں بھرجائیں۔

876 -[9]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلُ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجد» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہےحضرت ابوسعید خدری سے فرماتےہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے ۱؎ تو کہتے اے اﷲ اے ہمارے رب تیرے ہی لیے حمدہے آسمان بھرکر زمین بھرکر اور اس کے لیے جو چیز تو چاہے وہ بھرکر،تعریف و بزرگی والا ہےجو کچھ بندہ کہے اس کا توحق دارہے ہم سب تیرے بندے ہیں الٰہی  جو تو دے اسےکوئی روک نہیں سکتا اورجوتو روکے اسےکوئی دے نہیں سکتا تیرے مقابل غنی کو غنا نفع نہیں پہنچاتی ۲؎(مسلم)

۱؎  ابھی عرض کیا جاچکاہے کہ ان جیسی احادیث میں رکوع سے مراد نوافل کے رکوع ہیں کہ ان میں دعائیں اور ذکر اذکار کی عام اجازت ہے،فرائض کے رکوع کا ذکر تو ابھی بخاری ومسلم کی حدیث میں گزر چکا۔خیال رہے کہ یہاں راوی نے"سمع اﷲ لمن حمدہ"کا ذکرنہیں کیا مگر آپ کہتے یہ بھی تھے۔

۲؎ جدّ کے معنی ہیں عظمت،نصیبہ،غنا،نسب وغیرہ،یعنی کوئی شخص اپنے نسب یاغنا کی وجہ سےتیری پکڑ سےنہیں بچ سکتا۔ خیال رہے کہ مخلوق جو کچھ نفع،نقصان پہنچاتی ہے وہ اﷲ کے حکم اور ارادے سے ہے۔یہ ناممکن ہے کہ کوئی خدا کا مقابلہ کرکےکسی کو نفع نقصان پہنچائے۔اسی کا یہاں ذکرہے لہذا یہ الفاظ انبیاءو اولیاء کے باذن الٰہی  نفع پہنچانے کے خلاف نہیں۔

877 -[10]

وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» . فَقَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا؟» قَالَ: أَنَا. قَالَ: «رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبهَا أول» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہےحضرت رفاعہ ابن رافع سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھےنماز پڑھ رہے تھے ۲؎ جب آپ نے اپنا سر رکوع سے اٹھایا تو فرمایا اﷲ اپنے حمد کرنے والے کی سنتا ہے تو آپ کے پیچھے ایک شخص نے کہا اے ہمارے رب تیرے ہی لیے حمدہے بہت طیب برکت والی حمد جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ ابھی کس نے یہ کلمات کہے ۳؎ وہ بولا میں نے آپ نے فرمایا کہ میں نے چند اورتیس فرشتوں کو دیکھا کہ ان میں جلدی کررہے کہ پہلے کون لکھے۴؎(بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To