$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1710 -[18]

وَعَن جَابر قَالَ: رُشَّ قَبْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الَّذِي رَشَّ الْمَاءَ عَلَى قَبْرِهِ بِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ بِقِرْبَةٍ بَدَأَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى رِجْلَيْهِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ. فِي دَلَائِل النُّبُوَّة

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر پانی چھڑکا گیا چھڑکنے والے حضرت بلال ابن رباح تھے جنہوں نے مشکیزے سے آپ کی قبر پر چھڑکا سرہانے سے شروع کیا حتی کہ پائنتی تک پہنچ گئے ۱؎ بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کی۔

۱؎ معلوم ہوا کہ بعد دفن قبر پر چھڑکاؤ کرنا سنت ہے اگرچہ مٹی بارش کی وجہ سے گیلی ہی کیوں نہ ہو،بعض نے فرمایا خشک مٹی پرچھڑکے۔

1711 -[19]

وَعَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَان ابْن مَظْعُونٍ أُخْرِجَ بِجَنَازَتِهِ فَدُفِنَ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَنْ يَأْتِيَهُ بِحَجَرٍ فَلم يسْتَطع حملهَا فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ. قَالَ الْمُطَّلِبُ: قَالَ الَّذِي يُخْبِرُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ ذِرَاعَيْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَسَرَ عَنْهُمَا ثُمَّ حَمَلَهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَأْسِهِ وَقَالَ: «أُعَلِّمُ بِهَا قَبْرَ أَخِي وَأَدْفِنُ إِلَيْهِ مَنْ مَاتَ من أَهلِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت مطّلب ابن ابی وداعہ سے ۱؎ فرماتے ہیں حضرت عثمان ابن مظعون فوت ہوئے ان کا جنازہ لاکر دفن کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو پتھرلانے کا حکم دیا وہ اسے اٹھا نہ سکا ۲؎ تب خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ادھرتشریف لے گئے اپنی آستینیں چڑھائیں مطلب کہتے ہیں کہ جس نے مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واقعہ کی خبر دی وہ کہتے تھے گویا میں اب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی کہنیاں دیکھ رہا ہوں جب کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھولا پھر پتھر اٹھایا اور اسے قبر کے سرہانے رکھ دیا۳؎ اور فرمایا کہ میں اس سے اپنے بھائی کی قبر کا نشان لگاتا ہوں اور انہی کے پاس اپنے فوت ہونے والے گھر والوں کو دفن کردوں گا۴؎(ابوداؤد)

۱؎ آپ قریشی ہیں،فتح مکہ کے دن اسلام لائے،ابوداؤد میں مطلب ابن عبداﷲ مدنی ہے،وہ مخذومی ہیں،تابعی ہیں۔

۲؎ کیونکہ بہت اونچا اور بھاری تھا اور جو کا م دوسروں سے نہ ہوسکتا تھا حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔

۳؎ یا تو قبر سے علیٰحدہ سرہانے کے پاس کھڑا کردیا یا خود قبر کے سرہانے گاڑھ دیا،دوسرے احتمال کی تائید بخاری شریف کی روایت سے ہوتی ہے کہ حضرت خارجہ کہتے ہیں ہم میں بڑا بہادر وہ تھا جو قبرعثمانی کو پھلانگ جاتا،یعنی قبر بہت اونچی تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ قبر کو پتھر سے پختہ کر سکتے ہیں،ہاں پکی اینٹ چونے گچ وغیرہ سے بچے۔

۴؎ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن مظعون کو اپنا بھائی یا تو اس لیئے فرمایا کہ وہ قریشی ہیں اورقومی بھائی ہیں کیونکہ آپ ابن مظعون ابن حبیب ابن وہب ہیں،قرشی جمحی میں یا اس لیئے کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی ہیں،حضور انور نے ان کے بعد اپنے فرزند ابراہیم کو وہاں ہی دفن کیا،پھر اپنی صاحب زادی زینب کو۔

1712 -[20]

وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّاهُ اكْشِفِي لِي عَنْ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ فَكَشَفَتْ لِي عَنْ ثَلَاثَةِ قُبُورٍ لَا مُشْرِفَةٍ وَلَا لَا طئة مَبْطُوحَةٍ بِبَطْحَاءِ الْعَرْصَةِ الْحَمْرَاءِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت قاسم ابن محمد سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس گیا اورعرض کیا کہ والدہ ماجدہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کی قبر کھول کر دکھایئے۲؎ آپ نے میرے سامنے تین قبریں کھولیں جو نہ بہت اونچی تھیں نہ زمین کے برابر جن پر میدان کی سرخ بجری بچھی تھی ۳؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html