$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎ یعنی قبر پر چڑھکر بیٹھ جائے یہ حرام ہے کیونکہ اس میں قبر کی توہین ہے لیکن قبر کے پاس تلاوت قرآن کے لیئے بیٹھنا یا وہاں کا انتظام کرنے کے لیئے مجاور بن کر بیٹھنا بالکل جائزہے۔چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور کی مجاورہ تھیں اور کلید بردار لوگ آپ سے حجرہ کھلوا کر قبر انور کی زیارت کرتے تھے۔اسی مشکوٰۃ کے اگلے باب میں بخاری کی روایت سے آرہا ہے کہ حضرت حسن ابن علی کی قبر پر ان کی بیوی صاحبہ نے قبہ بنایا اور وہاں ایک سال تک مجاورہ بن کربیٹھی رہیں،اب بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے روضے پر بہت مجاور رہتے ہیں جنہیں اغواث کہتے ہیں جن کا ایک سردار ہوتا ہے جسے شیخ الاغواث کہا جاتاہے۔فقیر نے دوسرے حج میں شیخ الاغواث خلیل عبدالسلام صاحب کی قدم بوسی کی اور تیسرے حج میں شیخ الاغواث خواجہ الیاس کی،ان مجاوروں کو نجدی حکومت بھی نہ ہٹاسکی۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں بیٹھنے سے استنجے کے لیے بیٹھنا مراد ہے یعنی قبر پر پیشاب پاخانہ نہ کرو۔

1698 -[6]

وَعَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت مرثدغنوی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف نماز پڑھو ۱؎(مسلم)

۱؎ اس طرح کہ قبرنمازی کے سامنے بغیر آڑ ہو یہ حرام ہے اور اگر قبر دائیں بائیں یا پیچھے ہو یا سامنے ہی ہو مگر نمازی اور اس کے درمیان دیوار وغیرہ کی آڑ ہو تو بلاکراہت نماز جائز ہے،بزرگوں کے مزار کے پاس برکت کے لیئے مسجدیں بنانا اور ان مسجدوں میں برکت کے لیئے نمازیں پڑھنا سنت انبیاء و سنت صحابہ ہے۔چنانچہ رب تعالٰی اصحاب کہف کے بارے میں فرماتا ہے:"لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیۡہِمۡ مَّسْجِدًا"یعنی مسلمانوں نےمشورہ کیا کہ ہم ان کے غار پرمسجد بنائیں گے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور کے اردگرد مسجد نبوی واقع ہے جہاں سجدے کرنے کی ہرمومن کو تمنا ہے،یونہی ہر بزرگ کے مزار کے پاس مسجدیں بنی ہیں۔

1699 -[7]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ فَتَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يجلس على قبر».رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سےکسی کا چنگاری پر بیٹھنا کہ جو کپڑے کو جلاکر اس کی کھال تک پہنچ جائے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے ۱؎(مسلم)

۱؎ یعنی مسلمان کی قبر پر بیٹھنا آگ پر بیٹھنے سے بدتر ہے کہ اس کے کپڑے اورجسم جلیں گے اور اس سے ایمان برباد ہوگا۔اس حدیث نے گزشتہ حدیث کی تفسیر کردی کہ وہاں بھی قبر پر بیٹھنے سے مراد قبر پر سوار ہوکر بیٹھناہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1700 -[8]

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يَلْحَدُ وَالْآخَرُ لَا يَلْحَدُ. فَقَالُوا: أَيُّهُمَا جَاءَ أَوَّلًا عَمِلَ عَمَلَهُ. فَجَاءَ الَّذِي يَلْحَدُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السّنة

روایت ہے حضرت عروہ ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ مدینہ میں دوشخص تھے ایک بغلی کھودتا تھا دوسرا یہ نہیں ۱؎ صحابہ نے کہا ان میں جو پہلے آئے وہ اپنا کام کرلے تو بغلی کھودنے والا ہی آیا جس نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے بغلی قبر کھودی۲؎(شرح سنہ)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html