Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1675 -[30]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا. اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ. اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ  وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازہ پر نماز پڑھتے تو کہتے الٰہی  ہمارے زندوں،مُردوں، حاضر،غائب،چھوٹوں اور بڑوں،مَردوں اورعورتوں کو بخش دے ۱؎ الٰہی  تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے تو اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے جسے موت دے تو اسے ایمان پر موت دے الٰہی  ہمیں اس کے ثواب سے محروم نہ کر اور اس کے پیچھے فتنہ میں نہ ڈال ۲؎(احمد،ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ)

۱؎ ان چارکلمات کا مقصد دعا کو عام کرنا ہے یعنی صرف میت کے لیے ہی دعا نہ کرے بلکہ سارے زندوں مردوں کے لیے دعا کرے۔اس سے معلوم ہوا کہ گزشتہ حدیث میں جو فرمایا گیا تھا کہ"اَخْلِصُوْالَہُ الدُّعَاءَ"اس کے معنے یہ نہیں تھے کہ صرف حاضر میت ہی کو دعا کرے اور کو شامل نہ کرے جیساکہ بعض شارحین نے سمجھا بلکہ اس کے معنے وہ ہیں جو ہم نے وہاں عرض کر دیئے۔

۲؎ یعنی ایمان کے ثواب سے محروم نہ کر اور ایمان کے بعدہمیں فتنہ میں نہ ڈال یا میت پرصبرکے اجر سے محروم نہ کر اور توفیق دے کہ ہم بے صبری کرکے فتنہ میں نہ پڑجائیں،چونکہ اسلام میں عقیدہ،کلمۂ شہادت اعمال سب شامل ہیں اس لیئے زندگی اسلام پر مانگی گئی اور ایمان صرف عقائد کانام ہے اس لیئے موت ایمان پر مانگی گئی کہ اس وقت اعمال نہیں ہوتے۔

1676 -[31]

وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْأَشْهَلِيِّ عَنْ أَبِيهِ وانتهت رِوَايَته عِنْد قَوْله: و «أنثانا» . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: «فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِيمَانِ وَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِسْلَامِ».وَفِي آخِرِهِ:«وَلَا تُضِلَّنَا بعده»

اور نسائی نے ابراہیم اشہلی سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی وانثانا پرختم ہوگئی اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ اسے ایمان پر زندہ رکھ اور اسلام پر موت دے ۱؎ اور اس کے آخر میں ہے کہ اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کردے۔

۱؎  یہاں اسلام اورایمان ہم معنے ہیں،یعنی دین حق صرف عبارت کا فرق۔

1677 -[32]

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت واثلہ ابن اسقع سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان آدمی پر نماز پڑھائی میں نے آپ کو یہ کہتے سنا کہ الٰہی  فلاں کا بیٹا فلاں تیرے ذمہ اورتیرے قریب کے عہد میں ہے تو اسے قبر کے فتنہ اور آگ کے عذاب سے بچالے تو وفاء اورحق والا ہے الٰہی  اسے بخش دے اور اس پر رحم کر بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎ اس میں خاص دین حاضرمیت کے لیے دعاء ہے یہ بھی جائزہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نےگزشتہ عام دعاء بھی پڑھی اوراس کے بعد یہ بھی،قرب عہد سے مراد یا قرآن شریف ہے یا ایمان یعنی یہ بندہ مؤمن ہے قرآن کا ماننے والا،رب تعالٰی



Total Pages: 519

Go To