Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

ابن علی نے جناب علی مرتضٰی پر،امام حسین نے حضرت حسن پر چارتکبیریں ہی کہیں،بلکہ فرشتوں نے آدم علیہ السلام کا جنازہ پڑھا تو آپ پر چارتکبیریں ہی کہیں۔اس کی پوری تحقیق کے لیے فتح القدیر،لمعات و مرقات میں دیکھو۔

1654 -[9]

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فَقَالَ: لِتَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت طلحہ ابن عبداﷲ ابن عوف سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداﷲ ابن عباس کے پیچھے ایک جنازہ پر نماز پڑھی تو آپ نے سورۂ فاتحہ پڑھی پھر فرمایا تم جان لو کہ یہ بھی ایک طریقہ ہے ۲؎(بخاری)

۱؎ آپ مشہور تابعی ہیں،حضرت عبدالرحمن ابن عوف کے بھتیجے۔

۲؎ اس حدیث کی بناء پر لوگ کہتے ہیں کہ نماز جنازہ میں سورۂ فاتحہ پڑھنی چاہیئے،نماز پنجگانہ کی طرح اس میں بھی سورۂ فاتحہ پڑھنا واجب ہے مگر اس حدیث سے یہ مسئلہ ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا چند وجوہ سے:ایک یہ کہ اس سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عبداﷲ ابن عباس نے نماز جنازہ کے اندر سورۂ فاتحہ پڑھی بلکہ نماز جنازہ کے بعدمیت کو ایصال ثواب کے لیے سورۂ فاتحہ پڑھی کیونکہ یہاں صَلَّیْتُ کے بعد فَقَرَءَ ہے ف تعقیبیہ سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ قرأت نماز کے بعدتھی جیسے "فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانۡتَشِرُوۡا"۔دوسرے یہ کہ اگر مان لیا جائے کہ آپ نے نماز کے اندر ہی پڑھی تو یہ پتہ نہیں چلتا کہ کس تکبیر کے بعد پڑھی۔تیسرے یہ کہ اگر کوئی تکبیربھی اپنی طرف سے مقررکرلو تو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بہ نیت ثناء پڑھی یا بہ نیت دعاء یا بہ نیت تلاوت۔چوتھے یہ کہ آپ کے سورۂ فاتحہ پڑھنے پر سارے حاضرین صحابہ کو سخت تعجب ہوا تب آپ نے معذرت کے طور پرکہا کہ میں نے اس لیے عمل کیا تاکہ تم جانو کہ یہ نیت ہے۔معلوم ہوا کہ صحابہ اسکو سنت نہیں جانتے تھے اور نہ پڑھتے تھےتبھی تو آپ کو معذرت کرنی پڑی۔پانچویں یہ کہ آپ نے یہ نہ فرمایا کہ سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہے بلکہ سنت لغوی فرمایا،یعنی یہ بھی ایک طریقہ ہے کہ بجائے اور ثناء اور دعاء کے یہ پڑھ لی جائے۔احناف بھی کہتے ہیں کہ بہ نیت ثناءیا دعا الحمد پڑھناجائز ہے،بہ نیت تلاوت منع۔چھٹے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں ثابت نہیں ہوا کہ آپ نے جنازہ میں سورۂ فاتحہ پڑھی ہو۔ساتویں یہ کہ صحابہ کرام بھی جنازہ میں فاتحہ کی تلاوت نہ کرتے تھے۔چنانچہ مؤطا میں عن مالك عن نافع ہے کہ سیدناعبداﷲ ابن عمر نماز جنازہ میں تلاوت قطعًا نہیں کرتے تھے،اسی مؤطا امام مالک میں ہے کہ کسی نے حضرت ابوہریرہ سے پوچھاکہ نماز جنازہ کیسے پڑھی جائے تو آپ نے فرمایا کہ جب جنازہ رکھا جائے تو پہلے تکبیر کہو اور خدا کی حمد کرو،پھر درود شریف پڑھو،پھر یہ دعا پڑھو"اللّٰھُمَّ عَبْدُكَ"الخ۔بہرحال اس حدیث سے نماز جنازہ میں تلاوت فاتحہ پر دلیل پکڑنا بالکل باطل ہے،مذہب احناف نہایت قوی ہے۔عینی شرح بخاری میں اس جگہ ہے کہ حضرت عمر وعلی وابن عمر، ابوہریرہ صحابہ اور عطاء طاؤس،سعدابن مسیب،ابن سیرین،سعد ابن جبیر،شعبی اور مجاہد وغیرہ تابعین جنازہ میں فاتحہ کو منع کرتے تھے۔

1655 -[10]

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدنس وأبدله دَارا خيرا من دَاره وَأهلا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأدْخلهُ الْجنَّة وأعذه من عَذَاب الْقَبْر وَمن عَذَاب النَّار» . وَفِي رِوَايَةٍ: «وَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ» قَالَ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذَلِكَ الْمَيِّت. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عوف بن مالک سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پرنماز پڑھی تو میں نے آپ کی دعا حفظ کرلی آپ فرماتے تھے الٰہی  اسے بخش دے اور اس پر رحم کر،اسے عافیت دے،اسے معاف کر،اس کی مہمانی اچھی فرما،اس کی قبر فراخ کر اور اسے پانی برف اور اولے سے دھودے ۱؎ اور اسے خطاؤں سے ایسا صاف کردے جیسے توسفید کپڑا میل سے صاف کرتاہے۲؎ اور اس کو اس کے گھر سے اچھا گھر،گھر والوں سے اچھے گھر والے اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی عطا فرما۳؎ اور اسے جنت میں داخل کر اور قبر اور آگ کے عذاب سے بچالے اور ایک روایت میں ہے اسے قبر کے فتنہ اور آگ کے عذاب سے بچالے،فرماتے ہیں حتی کہ میں نے آرزو کی کہ یہ میت میں ہوتا۴؎(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To