Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1650 -[5]

وَعَن عَليّ رَضِي الله عَنهُ قَالَ: رَأَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا وَقَعَدَ فَقَعَدْنَا يَعْنِي فِي الْجَنَازَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ وَأَبِي دَاوُدَ: قَامَ فِي الْجَنَازَةِ ثُمَّ قَعَدَ بَعْدُ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے دیکھا تو ہم بھی کھڑے ہوتے رہے پھر آپ بیٹھنے لگےتو ہم بھی بیٹھنے لگے یعنی جنازے میں ۱؎ (مسلم)اور مالک اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ اولًا جنازے میں کھڑے ہوتے تھے پھر بعد میں بیٹھنے لگے۔

۱؎ یہ حدیث گزشتہ احادیث کی ناسخ ہے،یعنی پہلے حضورصلی اللہ علیہ وسلم جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجاتے تھے ہم بھی اسی پر عامل تھے،پھر بعد میں آپ نے یہ عمل چھوڑ دیا ہم نےبھی چھوڑدیا لہذا وہ کھڑا ہونا منسوخ ہے۔خیال رہے کہ وہ قیام منسوخ ہوا ہے جو صرف گھبراہٹ کے اظہار یا ملائکہ موت کی تعظیم کے لیے ہو اور ساتھ جانے کا ارادہ نہ ہو،ساتھ جانے کے لیے اٹھنا تو اب بھی ضروری ہے۔

1651 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَكَانَ مَعَهُ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا وَيُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا فَإِنَّهُ يَرْجِعُ مِنَ الْأَجْرِ بِقِيرَاطَيْنِ كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بقيراط»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جومسلمان کے جنازے کے ساتھ ایمان سے بہ نیت ثواب جائے ۱؎ اور اس کے ساتھ ہی رہے حتی کہ اس پرنماز پڑھ لے اور اس کے دفن سے فارغ ہوجائے تو وہ ثواب کے دو قیراط(حصے)لےکر لوٹے گا ہرحصہ احد کے برابر اور جو اس پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ جائے وہ ایک حصہ لے کر لوٹے گا ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ ان دو قیدوں سے دو فائدے حاصل ہوئے:ایک یہ کہ کافر کا میت کے ساتھ جانا ثواب کاباعث نہیں کیونکہ اعمال کا ثواب ایمان سے ملتا ہے۔دوسرے یہ کہ ریا کاری،قومی نظریئے،کسی مالدارکو خوش کرنے کے لیے ساتھ جانے پربھی کوئی ثواب نہیں جیساکہ آج عمومًا دیکھاجارہا ہے کہ غریب کے جنازے پر اٹھانے والے بھی مشکل سے جمع ہوتے ہیں اور امیر کے جنازے پر اکثر خوشامدیوں کا ہجوم ہوتا ہے جو بغیر نماز جانے ہوئے بھی بے وضو ہی ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔

۲؎ عمومًا دینار کے بیسویں حصے کو قیراط کہا جاتا ہے مگر شام والے چالیسویں حصے کو بعض اور علاقوں میں دینار کے چھٹے حصے کو قیراط کہتے ہیں یہاں تجریدًا صرف حصہ مراد ہے نہ کہ دینار کا حصہ جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے یعنی صرف نماز جنازہ میں شرکت کرنے والا آدھا ثواب پاتاہے اور دفن میں بھی شرکت کرنے والا دگنا۔

1652 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَخرج بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَات

روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر دی جس دن انہوں نے وفات پائی ۱؎ اورحضور صحابہ کے ساتھ عیدگاہ تشریف لے گئے ان کی صفیں بنائیں اور چار تکبیریں کہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ نجاشی بادشاہ حبشہ کا لقب تھا،ان کا نام اصحمہ تھا،یہ پہلے عیسائی تھے بعد میں مسلمان ہوئے اورحبشہ میں مہاجرصحابہ کو امن بھی دی،ان کی خدمتیں بھی کیں،ان کا انتقال رجب      ۹ھ؁ میں ہوا۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ دور نزدیک،غائب حاضر سب کو دیکھ لیتی ہیں کہ حبشہ اور مدینہ منورہ میں ایک مہینہ کا فاصلہ ہے۔(مرقات)

۲؎ اس سےمعلوم ہوا کہ پنجگانہ جماعت کی مسجد میں نماز جنازہ منع ہے میت مسجد میں ہو یا نہ ہو اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز مسجد نبوی شریف میں نہ پڑھی بلکہ ان کو باہر لے گئے۔اس حدیث کی بنا پربعض لوگ نماز جنازہ غائبانہ کے



Total Pages: 519

Go To