$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب المشی بالجنازۃ و الصلوۃ علیھا

جنازے کے ساتھ چلنے اور اس پرنماز پڑھنے کاباب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ جنازے کے ساتھ سواری پرجانابھی جائز ہے اور پیدل بھی،سوار جنازے سے پیچھے ہی رہے،پیدل آگے پیچھے ہرطرف چل سکتا ہے مگر پیدل جانا اور پیچھے رہنا بہترہے۔ضرورت کے وقت میت کو سواری پر لے جانابھی جائز ہے جب کہ قبرستان بہت دور ہو جیسے کراچی یا بمبئی،ورنہ سنت یہ ہے کہ چار آدمی اپنے کندھوں پر اٹھاکر اس طرح لےجائیں کہ میت کا سر آگے ہو،پاؤں پیچھے۔نماز جنازہ فرض کفایہ ہے۔اس نماز کی تین شرطیں ہیں:میت کا مسلمان ہونا،پاک ہونا،نمازی کے آگے رکھا ہوا ہونا،لہذا غسل سے پہلےیا غائب جنازہ پر یاسواری پر رکھے ہوئے یا نمازی کے پیچھے رکھے پر نماز جنازہ جائزنہیں۔

1646 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ وَإِنْ تَكُ سِوَى ذَلِكَ فشر تضعونه عَن رقابك»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنازے کو تیز لے جاؤ ۱؎ اگر وہ نیک ہے تو بھلائی ہے جس کی طرف تم اسے لے جارہے ہو اور اگر اس کے سوا کچھ اور ہے تو وہ ایک بری چیز ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتاررہے ہو ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی میت کو قبرستان تیز رفتار سے پہنچاؤ۔تیزی سے مراد عام رفتار سے زیادہ اور دوڑنے سےکم ہے،ہاں اگرمیت کے پھول یا پھٹ جانے کا اندیشہ ہو تو دوڑتے ہوئے لے جائیں۔

۲؎ یعنی ہر نیک اور بد میت کو تیز ہی لے جاناچاہیے،نیک کو اس لیے کہ اس کا اگلا گھر اس کے لیے خیرہے وہاں جلدی پہنچاؤ،بد کو اس لیے کہ وہ رحمت سے دور ہے تم سے بھی جلدی دور ہوجائے۔اس سےمعلوم ہوا کہ برے آدمی کی صحبت مرے بعدبھی اچھی نہیں چہ جائے کہ اس کی زندگی میں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ

1647 -[2]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَت لأَهْلهَا: يَا وَيْلَهَا أَيْن يذهبون بِهَا؟ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَو سمع الْإِنْسَان لصعق ". رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب جنازہ رکھاجاتاہے پھر اسے لوگ اپنی گردنوں پر اٹھاتے ہیں تو اگر وہ نیک ہوتا ہے تو کہتاہے مجھے لے چلو ۱؎ اور اگر بد ہوتو اپنے گھر والوں سے کہتا ہے ہائے اسے کہاں لے جاتے ہو اس کی آواز انسان کے سوا ہر چیزسنتی ہے اگر انسان سنے تو بے ہوش ہوجائے ۲؎(بخاری)

۱؎ جنازے سے مراد میت ہے اور اس کے رکھے جانے سے مراد گھر سے باہر نکال کر لوگوں کے سامنے قبرستان لے جانے کے لیے رکھا جانا ہے۔ظاہر یہی ہے کہ مردہ بزبان قال یہ گفتگو کرتا ہے کیونکہ اسے نزع میں ہی اپنے آئندہ حال کا پتہ چل جاتا ہے،اب اسے یہاں ٹھہرنا وبال معلوم ہوتاہے اس لیے کہتا ہے جلدی پہنچاؤ۔اس سے معلوم ہوا کہ اس حالت ہی میں جسم



Total Pages: 519

Go To
$footer_html